qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

ضلع  حکام کی مداخلت سے نمٹا عزا خانہ چاند سورج کا تنازعہ

 شہر کے تاریخی عزاخانہ چاند سورج کی تولیت اور قبضہ کا تنازعہ آخر  کار انتظامیہ کی مداخلت کے بعد ختم ہو گیا۔ عزا خانہ  کا یہ تنازعہ ختم ہونا  قوم کے لئےقابل اطمینان و سکون تو ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ افسوس ناک بھی ہے۔ افسوس ناک اس لئے کہ اس معاملے کو آپسی گفتگو اور خیر سگالی کے ساتھ سلجھانے   کی قوم  کے دانشورں اور قوم کی مختلف انجمنوں  کی کوششیں  پوری طرح  ناکام رہیں اور فریق مخالف  اپنے بیجا موقف پر اڑا رہا ۔اس نے نہ قوم کے وقار کا خیال کیا اور  نہ  وقف بورڈ، وقف ٹرائبیونل اور مقامی عدالت کے فیصلوں کی پرواہ کی۔  دو سال تک سابق متولی شاندار حسین کے اڑیل رخ کی وجہ سے  شہر بھر میں  عزا خانہ چاند سورج کا قضیہ تماشا بنا رہا۔ عزا خانہ چاند سورج جو فیض و نہار وقف کے نام سے  شیعہ  سینٹرل وقف بورڈ یو پی میں 1-1845 نمبر کے ساتھ درج ہے۔  عزا خانہ اور آرائش خانہ پر مشتمل یہ وقف وقف بورڈ میں زبانی وقف یعنی وقف علا لخیر کے طور پر درج ہے۔ 

رضی ہادی۔ عزا خانہ چاند سورج کے نئے متولی

  شاندار  حسین کو اہل محلہ نے  مذکورہ عزا خانہ کا متولی منتخب کیا تھا  انکے عہدے کی مدت2018 میں ختم ہو گئی۔ انکی جگہ اہل محلہ نے رضی ہادی کو نیا متولی منتخب کرلیا۔ انکے انتخاب کو وقف بورڈنے  28 جنوری 2022  کو منظوری دیدی۔ شاندار حسین نے رضی ہادی  کے بحیثیت متولی انتخاب کو وقف ٹرائبیونل میں چیلینج کیا۔ ٹرائبیونل نے وقف ریفرنس 63 سن2022  کے تحت معاملہ وقف بورڈ کو واپس کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وقف ک مزکوقرہ علا الخیر مانتے ہوئے فریقین  کا موقف جاننے کے بعد اس سلسلے میں از سرے نو  فیصلہ کرے۔ وقف بورڈ نے ٹرائبیونل کی ہدایت پر عمل  کرتے ہوئے سابق متولی اور اہل محلہ کے ذریعے منتخب رضی ہادی کا موقف جاننے کے بعد  29 ستمبر2023 کو رضی ہادی کو پھر متولی مقرر کردیا۔

۔  شاندار نے یہ دعوی بھی کیا کہ  مذکورہ  عزا خانہ اور آرائش خانہ  وقف علا لخیر نہیں بلکہ  وقف علا الولاد ہے۔ ٹرائبیونل نے شاندار حسین سے اپنے دعوے کے حق میں ثبوت پیش کرنے کو کہا۔ لیکن انکے پاس اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ ہیکہ  شاندار حسین اپنے اس دعوے  ‘کہ وقف  فیض و نہار وقف علا الخیر نہیں بلکہ وقف  علا الولاد ہے کے  حق میں اپنی اس درخواست کو ہی ثبوت کے طور پر پیش کرتے رہے جس میں وقف کووقف علا الولاد قرار دینے کی بات کہی گئی تھی۔ عدالت نے یہ نکتہ یہ بھی بیان کیا کہ ایک جانب وقف کو زبانی وقف  بتایا گیا ہے اور دوسری جانب اسکو وقف  علا الولاد بھی کہا جارہا ہے جو باہم متضاد ہے۔

وقف بورڈ کی ہدایت پر آخر کار  ضلع اقلیتی بہبود افسر نوشاد   حسین کی درخواست پر  ایس ڈی ایم نے  22 مئی2025 کو موقع پر پہونچ کر تحصیل دار، قانون گو اور پٹواری کی موجودگی میں عزاخانہ اور آرائش خانہ کو شاندار کے قبضے سے آزاد کراکے  وقف بورڈ کے ذریعے مقرر متولی رضی ہادی کے سپرد کردیا۔

جوگی پورہ میں سالانہ مجالس کے موقع پر رضی ہادی اہل امروہا کے ساتھ

 ایک دور تھا کہ امروہا کے شیعوں کے آپسی اختلافات باہمی گفتگو کے  ذریعے خوشگوار  ماحول میں دور کر لئے جاتے تھے۔ نہ عدالتوں  میں لوگ ایک دوسرے کو گھسیٹتے تھے ‘  نہ انتظامیہ کو مداخلت کرنا پڑ تی تھی  اور نہ شہر میں قوم بد نام ہوتی تھی۔ لیکن شاندار کی بیہودگی نے  عزا خانہ کی حرمت  اور قوم کی عزت و وقار کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔

 عزا خانہ چاند سورج امروہا کی عزا داری کی تاریخ میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے معروف زمانہ   علموں کےجلوس کی ابتدا   اسی عزا خانہ سے ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہیکہ مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں  اس عزا خانہ کی تعمیرہوئی تھی۔   491  برس قبل تعمیر اس عزا خانہ سے آٹھ محرم کو پہلا جلوس صوفی بزرگ شاہ مسکین نے برامد کیا تھا۔ شاہ مسکین کی قبر عزا خانہ میں داخل ہونے  کے مقام پر ہے۔

Related posts

سنگھ کی ماڈل ریاست میں دلتوں پر بڑھتے مظالم۔۔سراج نقوی

qaumikhabrein

امام موسیٰ کاظم کی شہادت پر مجلس عزاکا اہتمام

qaumikhabrein

عراق میں ڈالر میں لین دین جرم قرار

qaumikhabrein

Leave a Comment