qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اسرائیل فلسطینیوں کی زندگی کے ہر شعبے کو تباہ کررہا ہے۔

غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف انسانی جانوں کو تباہ کیا بلکہ بنیادی انسانی حقوق کو بھی پامال کر دیا ہے۔ پانی، جو زندگی کا بنیادی جزو ہے، اب غزہ کے عوام کے لیے ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے پانی کے ذرائع اور قطاروں پر منظم حملوں نے غزہ کے باشندوں کو پیاس کی جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف انسانی بحران کو جنم دیا بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک سنگین سوال اٹھایا ہے کہ وہ کب تک اس ظلم پر خاموش رہے گی؟

دفترِ اطلاعاتی حکومتِ غزہ کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج نے پانی کے حصول کے لیے قطاروں پر 112 سے زائد حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد واضح ہے: غزہ کے عوام کو پانی سے محروم کر کے ان پر نفسیاتی اور جسمانی دباؤ ڈالنا۔ اس پالیسی کے تحت 720 پانی کے کنویں تباہ ہو چکے ہیں، اور 112 میٹھے پانی کے ذرائع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ نتیجتاً، 12 لاکھ سے زائد افراد صاف پانی تک رسائی سے محروم ہو چکے ہیں۔

23 جنوری 2025 سے اسرائیلی کمپنی “مکوروت” نے غزہ کے لیے پانی کی ترسیل مکمل طور پر بند کر دی، جبکہ 9 مارچ 2025 کو دیر البلح کی واٹر پیوریفکیشن اسٹیشن کی بجلی منقطع ہونے سے پانی کی پیداوار بالکل رک گئی۔

یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ لاکھوں خاندانوں کی تباہی کی کہانی ہے۔ پانی کے بغیر نہ صرف روزمرہ زندگی مفلوج ہو گئی بلکہ بچوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ ہر ماہ 12 ملین لیٹر ایندھن کی ترسیل روک کر اسرائیل نے واٹر پمپس، نکاسیِ آب، اور کوڑا کرکٹ کے نظام کو تباہ کر دیا، جس سے ماحولیاتی اور صحت کے بحران نے جنم لیا۔ کنونشنِ جنیوا کے تحت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جنگی جرم ہے، لیکن غزہ میں یہ جرم کھلے عام جاری ہے۔

اسرائل نے غزہ کے ایک اور سینئر ڈاکٹر عطا اللہ قندیل کو بھی مارڈالا

اس صورتحال کا ایک اور دل دہلا دینے والا پہلو ڈاکٹر احمد عطاء اللہ حامد قندیل جیسے ہیروز کی شہادت ہے۔ ڈاکٹر احمد، جو غزہ کے سب سے تجربہ کار سرجن اور سرجری کے بانی تھے، کو ایک ٹارگٹڈ ڈرون حملے میں شہید کر دیا گیا جب وہ غزہ سٹی کے الاہلی عرب ہسپتال سے گھر لوٹ رہے تھے۔ ڈاکٹر حمودہ، جو ان کے ساتھی تھے، نے کہا: “اسرائیل نے پروفیسر ڈاکٹر احمد قندیل کو شہید کر دیا، جو فلسطین میں سرجری کے بانی اور ستون تھے۔” یہ شہادت نہ صرف غزہ کے طبی نظام کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ اسرائیلی فوج کس طرح شعوری طور پر فلسطینیوں کے لیے زندگی کے ہر شعبے کو نشانہ بنا رہی ہے۔

عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری اور محاصرے نے ایک لاکھ 96 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید یا زخمی کیا، جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جبکہ لاکھوں قحط، بیماریوں، اور جبری نقل مکانی کا شکار ہیں۔ ایسی صورتحال میں عالمی برادری سے فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔ دفترِ اطلاعات نے اپیل کی ہے کہ غزہ میں ایندھن، پانی، اور ضروری آلات کی ترسیل بحال کی جائے تاکہ یہ انسانی بحران مزید گہرا نہ ہو۔

غزہ کے عوام کی یہ حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پانی جیسا بنیادی حق چھین کر انسانیت کو شرمندہ کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کو اب خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ یہ وقت ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی کے لیے آواز اٹھائی جائے اور انہیں ان کی زمین، ان کا پانی، اور ان کی عزت واپس دی جائے۔ غزہ کے عوام کی جدوجہد نہ صرف ان کی اپنی بقا کی جنگ ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔

Related posts

جب علامہ رشید ترابی نے اشرف عباس کی شیروانی سلوائی

qaumikhabrein

پاکستان کا غریب مفتی 5 ارب 34 کروڑ 27 لاکھ کا مالک نکلا۔

qaumikhabrein

بڑھاپے میں اولاد نے گھر سے نکالا۔ شاہ ولایت کے مزار پر بے سہارا پڑی ہے خاتون۔

qaumikhabrein

Leave a Comment