qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

رضوی سادات کے جد امجد حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام

امام زادہ حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام شہر قم کے واجب التعظیم امامزادوں میں سے ایک ہیں۔ آپ اہلِ علم تھے اور آپ نے امام محمد تقی جواد علیہ السلام سے احادیث و روایت نقل کی ہیں۔ آپ کو ’’مُبَرقّع‘‘ (یعنی نقاب پوش) اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے چہرے کو نقاب سے ڈھانپے رہتے تھے۔ ۔ بعض روایتوں کے مطابق آپ کا چہرہ بے حد حسین تھا کہ جب آپ بازار سے گزرتے تو لوگ اپنی دکانیں چھوڑ کر آپ کے چہرے کو دیکھنے لگتے، لہٰذا آپ نے نقاب اوڑھنا شروع کیا تاکہ کسی کے لئے مشکل کا سبب نہ بنیں۔

حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام امام محمد تقی علیہ السلام (امام جوادؑ) کے دوسرے فرزند تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت سمانہ سلام اللہ علیہا تھیں۔ آپ سن 214 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور خانوادہ امامت میں پرورش پائی۔ آپ نے قم میں 40 سال قیام فرمایا اور اس دوران اہلِ قم، علماء اور بزرگوں کی جانب سے ہمیشہ عزت و تکریم پاتے رہے۔ بالآخر آپ 22 ربیع الثانی 296 ہجری کو 82 سال کی عمر میں وفات کرگئے۔ آپ کا جنازہ شیعیانِ قم نے نہایت شان و شوکت کے ساتھ اٹھایا اور آپ کو آپ ہی کے گھر میں دفن کیا گیا۔ آپ کا مزار مبارک قم کے محلہ چہل اختران میں واقع ہے۔

حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام رضوی سادات کے جدِّ امجد ہیں اور مشہور ہے کہ قم اور رَی کے اطراف کے ساداتِ بُرقعی انہی کی اولاد میں سے ہیں۔ ۔ امام محمد تقی جواد علیہ السلام سے روایت منقول ہے کہ جو شخص حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام کی زیارت کرے، اسے امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت کا ثواب ملے گا۔امامزادہ موسیٰ مبرقع علیہ السلام صاحبِ کرامات و فضائلِ کثیرہ تھے۔ بے شمار زائرین نے ان کے در سے اپنی حاجتیں اور مرادیں پائی ہیں۔ ان کی کرامات میں مریضوں کو شفا دینا، حاجات کی برآوری، بلاؤں اور مشکلات کا دُور ہونا شامل ہے۔

جب 220 ہجری میں امام محمد تقی علیہ السّلام کو بغداد بلایا گیا اور آپؑ وہاں شہید کر دئے گئے اُس وقت حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام کی عمر تقریباً 6 سال تھی۔ والد ماجد کی شہادت کے بعد آپ اپنے بڑے بھائی امام علی نقی علیہ السلام کی سرپرستی میں فکری اور روحانی کمال تک پہنچے۔ حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام اپنے بھائی کے مطیع و فرمانبردار تھے اور ان سے خالصانہ ارادت رکھتے تھے۔حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی، جان، مال اور عزت و آبرو کو اپنے امام اور برادر بزرگ امام علی نقی علیہ السلام کی ولایت کے دفاع کے لئے وقف کر دیا اور امام علی نقی علیہ السّلام کے حکم سے آپ نے قم کی جانب ہجرت کی

لحد مبارک حضرت موسیٰ مبرقع

حضرت ابو احمد سید موسیٰ مبرقع علیہ السلام نے شہرِ قم کو اپنی قیام گاہ کے طور پر منتخب کیا اور وہاں دینی، ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے۔ آپ نے اپنی اولاد کے ہمراہ مکارمِ اخلاق کو فروغ اور اہلِ بیت علیہم السلام کی ثقافت کو قم اور اس کے اطراف میں عام کیا۔ اسی طرح آپ نے سماجی تعلقات اور قبائل و اقوام کے باہمی روابط میں بھی مؤثر کردار ادا کیا۔اس خاندان کے بزرگان نے تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں قم، کاشان، آوہ (آبه) اور ان کے نواحی علاقوں میں نقابتِ سادات کی ذمہ داری سنبھالی تھی، نیز منصبِ امیرالحاج بھی انہی کو سپرد کیا گیا تھا۔ اہلِ قم نے ان کی دینی، تبلیغی اور سماجی قیادت کو دل و جان سے تسلیم کیا تھا۔

Related posts

امام خمینی اور شہدا کی یاد میں  تعزیتی جلسہ و مجلسِ عزا

qaumikhabrein

اللہ کی رضا کے لئے انسانیت کی خدمت کرنا ہی دین ہے۔ مولانا سید کمال طاہر

qaumikhabrein

گریجویشن اور عالم کورس کی تکمیل پر طلبہ کی دستار بندی

qaumikhabrein

Leave a Comment