qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

فتح مقصد کی ہوتی ہے ۔ کربلا سے  لیکرایران کی موجودہ جدوجہد تک

فتح کی اصل تعریف کیا ہے؟ کیا فتح وہ ہے کہ دشمن کے ہاتھوں ماردئے جائیں، یا وہ  کہ جب مقصد حاصل ہو جائے — چاہے اس کے لیے جان، مال، عزیز سب کچھ قربان کرنا پڑے؟ تاریخ گواہ ہے کہ حقیقی فتح مقصد کی تکمیل کا نام ہے، نہ کہ محض زندہ رہنے یا مادی غلبہ حاصل کرنے کا۔

یہ بات سب سے واضح طور پر واقعہ کربلا میں نظر آتی ہے۔ سن 61 ہجری میں امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کیا۔ یزید کا مطالبہ تھا کہ امام حسین اسے جائز خلیفہ تسلیم کریں، اس کی ہر بات کو مان لیں، اور اس کی حاکمیت کے سامنے سر جھکا دیں۔ لیکن امام حسین نے یہ بات قبول نہ کی۔ انہوں نے اپنے اہلِ بیت، بچوں، بھائیوں، ساتھیوں سمیت سب کو قربان کر دیا، مگرظالم کی  بیعت نہ کی۔ کربلا کے میدان میں چھ ماہ کے علی اصغرؑ کا گلا تیر سے چھلنی کر دیا گیا، حضرت عباسؑ کے بازو کاٹ دیے گئے، اور امام حسینؑ سمیت 72 ساتھی شہید ہوئے۔لیکن امام حسین اپنے مقصد پر اٹل رہے۔

سلامتی مشیر شہید علی لاریجانی
بسیج کمانڈر برگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی شہید

ظاہری طور پر یزید نے امام حسین کو شہید کر کے فتح حاصل کر لی تھی۔ لیکن کیا واقعی یزید کامیاب ہوا؟ نہیں۔ یزید اپنے مقصد میں ناکام رہا — وہ امام حسین کی بیعت حاصل نہ کر سکا۔ امام حسین نے جان دے کر بھی اپنا مقصد حاصل کیا: دین اسلام کی بقا، حق کی سربلندی، اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانا۔ آج بھی دنیا یزید کو ظالم اور ناکام سمجھتی ہے، جبکہ امام حسین کو فاتحِ حقیقی مانتی ہے۔

وہی اصول آج ایران میں نظر آ رہا ہے۔ موجودہ دور میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شدید حملے ہو رہے ہیں۔ ایرانی رہنما شہید ہو رہے ہیں، شہر اور شہری تباہ ہو رہے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، تین روز کے نوزائیدہ بچے سمیت معصوم بچے، خواتین اور بوڑھے شہید ہوئے ہیں — ایک رپورٹ کے مطابق اراک کے قریب ایک گھر پر حملے میں تین روزہ بچہ مجتبیٰ اپنی ماں، بہن اور دادی سمیت شہید ہوا۔ ایرانی قوم کے خلاف یہ ظلم انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے۔

تین روزہ شہید مجتبیٰ

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بازو الگ ہو گئے تھے، جو کربلا میں حضرت عباس کے بازو کاٹے جانے کی یاد دلاتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای، انکے سلامتی مشیر علی لاریجانی، بسیج کے کمانڈر سمیت درجنوں اعلی حکام شہید ہو چکے ہیں۔ایرانی لیڈرشپ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، IRGC کے اہم کمانڈرز شہید ہو رہے ہیں، اور ملک کے وسائل تباہ کیے جا رہے ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود ایرانی قوم سر جھکانے کو تیار نہیں۔ وہ کربلا کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہر مصیبت برداشت کر رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اپنے مقصد میں جزوی کامیابی تو حاصل کر رہے ہیں — لیڈروں کو شہید کرنا، انفراسٹرکچر تباہ کرنا — مگر ایران کو سرنڈر کرانے میں ناکام ہیں۔ ایران اپنے مقصد — آزادی، خودمختاری، اور استکبار کے سامنے ڈٹ جانےمیں ثابت قدم ہے۔

یہ دونوں کربلائیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایک کربلا 61 ہجری میں ہوئی، جہاں امام حسین نے بیعت سے انکار کر کے فتح حاصل کی۔ دوسری کربلا آج ایران میں برپا ہے، جہاں قوم ظلم سہہ رہی ہے مگر سر کو بلند کئے کھڑی ہے۔

فتح مقصد کی ہوتی ہے۔ جس نے مقصد حاصل کر لیا، وہی فاتح ہے — چاہے وہ جیتے یا شہید ہو جائے۔ یزید ناکام رہا، حسین کامیاب رہے۔ آج بھی امریکہ اور اسرائیل ایران کوتوڑ رہے ہیں لیکن جھکا نہیں پا رہے ہیں، ایران اپنے مقصد کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ جدوجہد جاری  ہے۔ تاریخ ایک بار پھر گواہ بنے گی کہ حق کی فتح دیر سے ہی سہی مگر ہوتی ضرور ہے۔ اللہ ایرانی قوم کو صبر، استقامت اور فتح عطا فرمائے۔ آمین۔

Related posts

پاکستان میں نہج البلاغہ کے ہزاروں جعلی نسخے تلف۔ مسلکی اختلافات بھڑکانے کی سازش ناکام۔

qaumikhabrein

اورنگ آباد میں 15 دسمبر  سے شروع ہوگا مراٹھواڑہ ایجوکیشن ایکسپو

qaumikhabrein

غزہ جنگ کی ہولناکی بیان کرنے والی صحافی فاطمہ  شہید

qaumikhabrein

Leave a Comment