qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اسرائل پر یورپی یونین کا شکنجہ

ایران جنگ نے مغرب کو ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اس آئینے میں ایک ایسا امریکہ نظر آتا ہے جو اپنے اتحادیوں کی بات سنے بغیر جنگ چھیڑتا ہے اور پھر ان سے مدد مانگتا ہے۔ اٹلی، اسپین، فرانس اور یورپی یونین کا موقف یہ بتاتا ہے کہ طاقت کی بنیاد پر بنی دوستی اس وقت ٹوٹ جاتی ہے جب اصول آڑے آئیں۔

ستائیس ملکوں کا گٹھ جوڑ یورپی یونین   بھی اسرائل سے فاصلہ بنا رہا ہے۔ یورپی یونین پر سرائل سے رشتے ختم کرنے کے حوالے سے دباؤ شدید ہوتا جارہا ہے۔

یورپی یونین سطح پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے صورتحال انتہائی دلچسپ ہے۔ یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان 2000 میں ایک ایسوسی ایشن معاہدہ ہوا تھا جو تجارتی اور سیاسی تعاون کی بنیاد ہے۔ اس معاہدے میں ایک انسانی حقوق کی شق موجود ہے جو کہتی ہے کہ تعلقات انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے احترام پر مبنی ہوں گے۔

اپریل 2026 میں اس معاہدے کو معطل کرنے کی ایک درخواست پر دس لاکھ سے زیادہ دستخط ہو گئے، جو یورپی یونین کی تاریخ کی سب سے تیز رفتار شہری درخواست بن گئی۔ یہ دستخط دس سے زیادہ رکن ممالک میں جمع ہوئے۔ یورپی کمیشن کی صدر اُرسُلا وان ڈر لائن نے ستمبر 2025 میں معاہدے کی جزوی معطلی کی تجویز دی تھی لیکن جرمنی، ہنگری اور چیک ری پبلک کی مخالفت کی وجہ سے یہ فیصلہ ابھی رکا ہوا ہے کیونکہ اس کے لیے رکن ممالک کی کافی اکثریت درکار ہے۔

یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور 2024 میں دونوں کے درمیان کل تجارت 42.6 ارب یورو تھی۔ یہ اقتصادی وزن ہی یورپی یونین کو ایک طاقتور آواز دیتا ہے لیکن ابھی تک یہ آواز ٹھوس اقدام میں نہیں بدلی۔

اسپین کے سانچیز اور اٹلی کی میلونی

یورپی اختلاف کی علامت بننے میں اسپین سب سے آگے رہا ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے ایران جنگ کو شروع سے “غلط اور غیر منصفانہ” قرار دیا ۔ اسپین نے امریکی فوجی طیاروں پر اپنے فوجی اڈوں سے ایران آپریشن کے لیے پرواز کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی۔اسپین نے اسرائیلی کمپنیوں کو بڑی دفاعی نمائشوں سے خارج کر دیا اور ہتھیار لے جانے والے امریکی طیاروں کو اوور فلائٹ کا حق دینے سے بھی انکار کیا۔

ادھر اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی نے 14 اپریل کو اعلان کیا کہ اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید معطل کر دی ہے — یہ معاہدہ فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر مبنی تھا۔

یہ فیصلہ اس وقت آیا جب اسرائیلی فوج نے لبنان میں اقوام متحدہ کے امن فوجی قافلے کے اطالوی فوجیوں پر وارننگ شاٹ فائر کیے، جس پر اٹلی نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا۔ اٹلی نے اپنے سیگونیلا ایئربیس کو بھی امریکی طیاروں کے لیے استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا جو ایران کے خلاف آپریشن میں شامل تھے۔ ایک طرف امریکہ نیٹو اور یورپی یونین جیسے اتحادیوں سے ہاتھ دھو چکا ہے ادھراسرائل بھی عالمی سطح پر   الگ تھلگ پڑتا جارہا ہے۔پاپ کا گھڑا کبھی تو بھرتا ہے۔ امریکہ اور اسرائل کے پاپوں کاگھڑا بھر چکا ہے

Related posts

پاکستان میں حالیہ بارش سے موہن جوداڑو کو بھی نقصان پہونچا

qaumikhabrein

ایرانی بحریہ کا بڑا جہازآگ لگنے کے بعد غرقاب۔

qaumikhabrein

  یہ جبر اور  اختیار کی جنگ ہے۔ سراج نقوی

qaumikhabrein

Leave a Comment