
ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ میں نئے تیار کردہ میزائلوں کی ہلاکت خیزی کو بھی آزمایا گیا ۔ اس جنگ کو امریکہ کی ہتھیار ساز کمپنی منافع کمانے کا سنہرا موقع سمجھ رہی ہے۔
28 فروری 2026 کی شام ایران کے جنوبی شہر لامرد میں لڑکیاں والی بال کھیل رہی تھیں۔ وہ ایک عام کھیل کا میدان تھا — اونچی چھت، ربڑ کا فرش، اور نوجوان کھلاڑیوں کی آوازیں۔ پھر اچانک آسمان سے موت اتری۔ دو میزائل آئے۔ عمارت کی چھت پھٹی اور 20 کھلاڑیاں اس کے ملبے تلے دب گئیں — ہمیشہ کے لیے۔
اسی دن، میناب کے ایک گرلز اسکول کی 167 کبھی گھر واپس نہ جاسکیں۔یہ سب کچھ جنگ کے پہلے ہی دن ہوا۔ اس جنگ کو امریکہ نے شروع کیا تھا۔


لامرد: والی بال کورٹ پر موت
لامرد حملے کے لئےامریکی فوج نے ابتدا میں ذمہ داری سے انکار کیا۔ لیکن نیو یارک ٹائمز، بی بی سی اور آزاد تحقیقاتی اداروں نے ویڈیو فوٹیج اور دھماکے کے انداز کا تجزیہ کر کے ثابت کیا کہ حملے میں امریکی Precision Strike Missile یعنی PrSM استعمال ہوئی — اور یہ اس مہلک ہتھیار کی پہلی جنگی آزمائش تھی۔ ایک امریکی اہلکار نے بعد میں اس کی تصدیق بھی کر دی۔
یہ میزائل اس لیے خاص طور پر خطرناک ہے کہ یہ ہدف سے عین اوپر پھٹتا ہے اور ہزاروں ٹنگسٹن کی چھرے چاروں طرف بکھیر دیتا ہے جو انسانی جسم کو چیر ڈالتے ہیں۔ یہی وہ “خوبی” ہے جو اس ہتھیار کی مارکیٹنگ میں بیان کی جاتی ہے۔

میناب: اسکول کے کمروں میں دفن 167 خواب
اسی 28 فروری کی صبح، میناب شہر کے شجرہ طیبہ گرلز پرائمری اسکول میں بچیاں اپنی کلاسوں میں سبق پڑھ رہی تھیں۔ یہ وہ دن تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا — اور پہلے ہی گھنٹوں میں یہ اسکول نشانہ بنا۔
تحقیقات کے مطابق امریکی فوج نے اس جنگ میں مصنوعی ذہانت کا ایک نظام استعمال کیا جو ایک گھنٹے میں 1,000 ہدف تیار کر سکتا ہے۔ جنگ کے پہلے دو ہفتوں میں 6,000 سے زائد حملے ہوئے۔ میناب کا وہ اسکول انہی “ہدفوں” میں سے ایک تھا۔

لاک ہیڈ مارٹن: خون پر کاروبار
23 اپریل 2026 — لامرد اور میناب کے حملوں کے تقریباً دو ماہ بعد —امریکی ہتھیار ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے CEO جم ٹائکلیٹ نے کمپنی کی سہ ماہی آمدنی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے سرمایہ کاروں سے کہا۔۔۔
“ابھی ایک سنہرا موقع ہے — حکومت میں جو لوگ ہیں، ان کا تجربہ، تبدیلی کی خواہش، اور ہماری مصنوعات کی مانگ — یہ سب مل کر ہمارے لیے بہترین صورتحال بنا رہے ہیں۔”
یہ وہی کمپنی ہے جس کا Precision Strike Missile — جو ابھی پروٹو ٹائپ مرحلے سے نکلا تھا اسکی ہلاکت خیزی کو لامرد کے اسپورٹس ہال میں والی بال کھلاڑیوں پر آزمایا گیا۔ ۔ ایران جنگ کے دوران لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کو PAC-3 میزائل کے لیے 4.7 بلین ڈالر اور C-130J جہازوں کے لیے 1.9 بلین ڈالر کے نئے معاہدے ملے۔

ہتھیار سازوں کی اخلاقیات
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لاک ہیڈ مارٹن نے جنگ سے فائدہ اٹھایا — ہتھیار ساز کمپنیاں ہمیشہ سے ایسا کرتی آئی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس “سنہرے موقع” کا ذکر CEO نے کیا، اس کا حقیقی مطلب ایرانی بچوں کی لاشیں ہیں۔
لامرد میں 20 کھلاڑیاں۔ میناب میں 167 طالبات۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں — یہ وہ لڑکیاں ہیں جن کے خواب تھے، جن کے والدین تھے، جن کے اسکول بیگ تھے، جن کی والی بال کٹس تھیں۔
ایک طرف وہ کمپنیاں ہیں جن کی بورڈ میٹنگز میں اربوں ڈالر کے معاہدوں پر تالیاں بجتی ہیں۔ دوسری طرف وہ باپ ہے جو اپنی 16 سالہ بیٹی کا انتظار کرتا رہا جو اسپورٹس ہال سے واپس نہ آئی۔
آخری بات
ایران میں بے گناہوں کا خون بہا اورکمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے لیے یہ “سنہرا موقع” ہے۔ لامرد اور میناب کے خاندانوں کے لیے یہ وہ دن ہے جب ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔

