qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امروہا کی سی اے آسیہ حسن — ایک روشن مثال

ماں خود راستہ نہیں چلتی، وہ اپنے بچوں کو منزل تک پہنچا دیتی ہے۔

یہ چند الفاظ ایک پوری زندگی کا خلاصہ ہیں — ایک ایسی زندگی جو قربانی، حوصلے اور علم کی روشنی سے منور ہے۔ سی اے آسیہ حسن کی کہانی صرف ایک کامیاب خاتون کی کہانی نہیں، بلکہ یہ نسل در نسل آگے بڑھنے کے جذبے کی داستان ہے۔


جہاں سے سفر شروع ہوا

آسیہ حسن کی کامیابی کا بیج اُن کی والدہ مرحومہ، کنیز فاطمہ نقوی (رانی)محلہ گزری نے بویا تھا۔ وہ امروہہ کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر علی گڑھ کے ہاسٹل میں تعلیم حاصل کی۔ ایک ایسے دور میں جب عورت کا گھر سے نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا، اُنہوں نے اپنی بیٹی کے لیے راستہ بنایا۔ والد مرحوم تقی الحسن نقوی (دانشمندان) کی دانشورانہ وراثت بھی اس سفر میں شامل رہی۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر آسیہ نے اپنی پوری زندگی تعمیر کی۔

تعلیم — ایک انتھک جستجو

آسیہ حسن نے تعلیم کو محض ایک ضرورت نہیں، بلکہ ایک جنون بنا لیا۔ اُن کی تعلیمی اسناد اس عزم کی گواہی دیتی ہیں:

  • چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (CA) — ملک کی مشکل ترین پیشہ ورانہ سند
  • بی کام اور ڈبل ایم کام
  • ڈبل NET کوالیفائیڈ
  • مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ فنانس ٹرینر

کل چھ ڈگریاں اور سرٹیفیکیشنز — یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ سالوں کی محنت، شب بیداریوں اور خود پر یقین کا ثمر ہے۔

مرحوم تقی الحسن نقوی۔والد

پیشہ ورانہ سفر — عالمی سطح پر اثرات

آسیہ نے اپنی صلاحیتوں کو دنیا کے بڑے اداروں میں آزمایا:

PT Musim Mas — دس ارب ڈالر کی پام آئل کمپنی، جو چودہ ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں انہوں نے چودہ ہزار کروڑ روپے کے کاروبار کی مالیاتی ذمہ داریاں سنبھالیں اور ایک ہزار کروڑ سے زائد کی بینک فنڈنگ کا انتظام کیا۔

Dr. Oetker India — ایک سو تیس سال پرانا عالمی فوڈ برانڈ، جہاں انہوں نے اپنی مہارت کو مزید نکھارا۔ اور اب وہ Dawnsun Group میں بطور Financial Controller اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں

سماجی ذمہ داری — علم کو عام کرنا

دفتر کے اوقات کے بعد بھی آسیہ رکتی نہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر ایک ایسا پلیٹ فارم چلاتی ہیں جہاں فنانس، اسٹاک مارکیٹ، سرمایہ کاری اور دولت کی تخلیق جیسے پیچیدہ موضوعات کو آسان زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔ پچانوے ہزار سے زائد فالوورس اس بات کی دلیل ہیں کہ علم جب خلوص کے ساتھ بانٹا جائے تو اس کی روشنی دور دور تک پھیلتی ہے۔

Related posts

لوک سبھا اسپیکر بھی کورونا پازیٹیو۔ایمس میں داخل

qaumikhabrein

امروہا میں  جشن زہرا کا اہتمام

qaumikhabrein

یو پی کے پانچ شہروں میں نہیں لگےگا لاکڈاؤن۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر لگائی روک۔

qaumikhabrein

Leave a Comment