qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

شہر عزا امروہا کے تاریخی عزا خانے

شہر عزا امروہا کی فضا کربلائی ہو چکی ہے۔ محرم کا چاند نظر آنے کے بعد سے تو اس  شہر عزا وشہر علمداری کی فضا میں حزن و ملال کا  رنگ اور زیادہ گہرا ہو گیا ہے۔ویسے تو  شہر کے 72 سے زیادہ عزا خانوں  میں سے بیشتر میں  رنگ و روغن  اور زیب و زیبائش کا کام عید غدیر کے بعد ہی شروع ہو جاتا ہے لیکن جیسے جیسےامام حسین کی عزاداری  کے دن قریب آتے چلے جاتے ہیں ویسے ویسے عزا خانے شہدائے کربلا کے غم کا استقبال کرنے کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں عزاداری اور علمداری کے لئے مشہر امروہا میں 72 سے زیادہ عزا خانے ہیں  جہاں شہیدان کربلا کے غم میں مجالس برپا ہوتی ہیں۔اور سب ہی عزا خانوں میں آرائش و زیبائش کا کچھ نا کچھ سامان موجود ہے لیکن آرائش و زیبائش اور شان و شوکت کے اعتبار سے اگر درجہ بندی کی  جائے تو تین عزا خانے سر فہرست قرار دئے جا سکتے ہیں۔ عزا خانہ محلہ بگلہ، عزا خانہ مسماۃ چھجی اور عزا خانہ مسماۃ نورن  میں بڑی تعداد میں بیش قیمتی جھاڑ، فانوس،  شیشے کی ہانڈیاں  اور دیگر آرائشی سامان موجود ہے ۔ محرم کی دس اور گیارہ تاریخ تک یہ عزا خانے اپنے آرائش اور شان و شوکت کی وجہ سے لائق دید ہوتے ہیں۔

عزا خانہ محلہ بگلہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محلہ بگلہ کی وجہ تسمیہ تاریخ اصغری میں یہ بیان کی گئی ہیکہ سابقہ زمانے میں اس محلے میں درختوں کی کثرت اور بگلوں (پرندوں) کی بہتات تھی۔اسی  سبب سے اس محلے  کو یہ نام دیا گیا۔ یہ محلہ قدیم اور بارونق محلوں میں شمار ہوتا تھا۔1877میں قائم یہ وسیع و عریض عزا خانہ  کئی عمارتوں پر مشتمل ہے۔ جس میں ایک خوبصورت مسجد۔ شہ نشین، دالان، متعدد کمرے اور ایک مکان شامل ہے۔ اس مکان میں مجلس کے اوقات میں خواتین موجود رہتی ہیں۔

یہ تمام املاک سید داد علی کے نبیرگان کی ملکیت ہے۔ پہلے مسجد عزا خانہ کے احاطے میں نہیں تھی لیکن داد علی کے بیر گان نے جب عزا خانہ کی عمارت تعمیر کرائی تو مسجد کو بھی اسی احاطے میں شامل کرلیا۔ صحن میں ایک شہید کی قبر بھی ہے۔عزا خانہ محلہ بگلہ   قیمتی شیشے کے سامان کی بدولت اپنی آرائش و  زیبائش کے معاملے میں منفرد مقام رکھتا ہےجھاڑوں فانوسوں اور شیشے کی ہانڈیوں کو بہت قرینے سے سمبھال کر رکھا گیا ہے۔ شیشے کا یہ تمام سامان بیلجیم  ساختہ بتایا جاتا ہے۔

یکم محرم تک پورے عزا خانے کی آرائش مکمل ہو جاتی ہے۔عشرہ اول میں یہاں مجالس کا اہتمام رہتا ہے۔ عاشورہ اور چہلم پرتعزیوں کا جلوس اسی عزا خانہ سے برامد ہوتا ہے۔چہلم کے جلوس میں چھنو لعل دلگیر لکھنوی کا نظم کردہ مرثیہ قید سے چھوٹ کے جب سید سجاد آئے۔پڑھا جاتا ہے۔ جلوس کی برامدگی سے قبل مجلس کے بعد سید حسن امام  اپنے ہمنواؤں اور سبط سجاد اپنے ہمنواؤں کے ساتھ سب سے پہلے  یہ مرثیہ پڑھتے ہیں  اور یہ دونوں مرثیہ خوانان دن بھر شہر میں سیکڑوں مقامات پر یہ مرثیہ پڑھتے ہیں۔

عزا خانہ بگلہ کے اخراجات کے لئے نبیرگان داد علی نے کافی جائداد وقف کر رکھی ہے۔عزا خانہ بگلہ کے موجودہ متولی سید سبط سجاد ہیں جو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ عزا خانے کے امور کو انجام دیتے ہیں۔ سبط سجاد ایک معروف مرثیہ خواں بھی ہیں جو مرثیہ خوانی کی اپنی خاندانی روایت کو نہایت عقیدت اور لگن کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔ انکے تین فرزند بھی انکے ہمنوا ہیں۔

Related posts

ایران ۔صدارتی چناؤ میں 6 امیدواروں کے درمیان ہوگا مقابلہ

qaumikhabrein

امام جعفر صادق کی تعلیمات مشعل راہ۔ مولانا شہوار نقوی

qaumikhabrein

سعودی عرب ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کریگا۔

qaumikhabrein

Leave a Comment