qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

آرائش کے اعتبار سے بھی منفرد ہے عزا خانہ مسماۃ چھجی۔

شہر عزا امروہا  میں جو عزا خانے اپنی شان و شوکت اور آرائش و زیبائش کے لئے  بر صغیر ہند وپاک  میں بہت مشہور ہیں ان میں مسماۃ چھجی کا عزا خانہ بھی شامل ہے۔ کوچہ قاضی میں واقع یہ عزا خانہ وسیع و عریض اور دیدہ زیب ہے۔اسکا داخلی دروازہ بہت بلند ہےاسکے اوپر ایک گنبد اور دو میناریں قائم ہیں۔۔ عزا خانہ کے احاطے میں  مسجد ہے۔ عزا خانہ کی عمارت شہ نشین، دالان، ٹین شیڈ،  دو صحنچیوں، دو   کمروں  ایک حجرے اور ایک مکان پرمشتمل ہے۔عزاخانے  میں تعمیر مہ تابی عزا خانے کی زیبائش کو ایک خاص رنگ عطا کرتی ہے۔

عزا خانہ امام حسین کی عزا داری کے اہتمام کے لئے عید غدیر کے بعد  سے ہی تیار ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ رنگ و روغن کے بعد  شیشے کے آرائشی سامان کی صفائی ستھرائی کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ عزا خانہ کے ذمہ داروں نے  بیلجیم ساختہ شیشے کے سامان کو محفوظ  و سلامت رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔ عزا خانہ میں  مختلف رنگوں اور سائز کے بارہ جھاڑ ہیں۔ ہر جھاڑ میں چھ سے بارہ  تک فانوس لگتے ہیں۔ اسکے علاوہ  شیشے کی درجنوں ہانڈیاں ہیں۔ پیتل کے درجنوں چو شاخے اور دو شاخے ہیں۔ جن پر مختلف رنگوں کے فانوس لگتے ہیں۔ چوشا خے میں چار اور دو شاخے میں دو فانوس لگائے جاتے ہیں۔ ایک دور میں جھاڑوں، چوشاخوں اور دو  شاخوں کے فانوسوں کے اندر شمعیں روشن کی جاتی تھیں جن کی وجہ سے پورا عزا خانہ روشنی سے جگمگا اٹھتا تھا۔

 یہ عزا خانہ مسماۃ چھجی کے نام سے مشہور ہے انکا اصل نام ملک النساء تھا، جو حکیم صفی الدین خان کی صاحبزادی اور شیخ نورالدین خان کی زوجہ تھیں۔انہوں نے اپنی ذاتی ملکیت کی جائیداد امام حسین علیہ السلام کی یاد اور مجالس عزا کے انعقاد کے لیے وقف کردی تھی۔

سن 1870 کےوقف نامے میں شرط رکھی گئی کہ عزا خانے میں باقاعدگی سے مجالس عزا، ماتم داری اور دیگر مذہبی رسوم ادا کی جائیں اور اس کام کے لیے ضروری آمدنی و وسائل بھی وقف کا حصہ قرار دیے گئے۔

متولی کے تقرر کے بارے میں دستاویز خاصی واضح ہے۔ یہ طے کیا گیا کہ تولیت پہلے ملک النساء کی اپنی ذات سے شروع ہو کر بعد ازاں نسلاً بعد نسل، خاندان کے سب سے بڑے فرد کو منتقل ہوتی رہے گی، بشرطیکہ وہ مذہب اثنا عشری سے تعلق رکھتا ہو۔ متولی کو جائیداد کے انتظام، آمدنی کے استعمال اور مجالس کے انعقاد کے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا۔

عزا خانے  کے اہم تبرکات میں ایک علم خاص اہمیت کا حامل ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ خاندان کے ایک بزرگ  کربلا میں سخت بیمار ہو گئے تھے۔ جنہیں امام حسین نے خواب میں بشارت دی تھی کہ ضریح کے پاس ایک مقام پر ایک کپڑا ہے جسکا لباس  بنا کر پہننے سے صحت  یابی نصیب ہوگی۔ لباس کی تیاری  کے بعد بچے ہوئے کپڑے کی کترنوں سے اس علم کو تیار کیا گیا ہے۔

 چاند رات سے آٹھ محرم تک عزاخانے میں مجالس کا اہتمام ہوتا ہے۔ آٹھ محرم کو جلوس کی آمد کے موقع پر ایک مرکزی مجلس منعقد ہوتی ہے جس میں اس خاص علم کی بھی زیارت کرائی جاتی ہے۔ اس مجلس کی خاص بات یہ ہیکہ  اس میں منت مان کر سیب اٹھائے جاتے ہیں اور منت پوری پونے پر سیب  ہی چڑھائے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہیکہ اس روز شہر میں سیب مہنگے ہوجاتے ہیں۔آؕئمہ اطہار کی شہادت کی تاریخوں پر بھی عزا خانے میں مجلسیں برپا ہوتی ہیں۔  ایام عزا کی آخری مجلس بھی اسی عزا خانہ میں ہوتی ہیں۔مجلس کے بعد جلوس برامد ہو تا ہے جو محلہ  دربار شاہ ولایت کے عزا خانہ غنی حسن میں اختتام پزیر ہوتا ہے۔ ۔ عاشورہ کو تربتوں کا جلوس بھی اس عزا خانے سے برامد ہو کر کربلا جاتا ہے۔ چہلم پر ایک تعزیہ بھی عزا خانے سے برامد ہوتا ہے۔عزا خانہ مومنین و مامنات کی زیارت اور نزر و نیاز کے لئے سال بھر کھلا رہتا ہے۔

Related posts

سعودی عرب کن دہشت گردو ں کی مدد کرتا ہے۔ ہیکرز نے خفیہ راز فاش کردئے

qaumikhabrein

مہمان ذاکرین کے تئیں اظہار تشکر کی نشست

qaumikhabrein

ایران میں موساد کے ایجنٹس گرفتار۔تخریب کاری کا منصوبہ ناکام

qaumikhabrein

Leave a Comment