qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

عزا خانہ نورن سے  لوگوں کو خصوصی عقیدت ہے۔

امروہا امام حسین کی عزاداری اور ماتمی جلوسوں کے لئے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے لیکن اس عزاداری میں امروہا کےباہر سے آنے والوں کا بہت اہم کردار ہے۔  پہلا ماتمی جلوس ایران سے آئے ایک صوفی بزرگ شاہ مسکین نے آٹھ محرم کو نکالا تھا۔وہ عالم گیر باد شاہ کے دور میں ایران سے آئے تھے۔جس مقام سے شاہ مسکین نے علم کا جلوس  نکالا تھا وہاں آج عزا خانہ چاند سورج واقع ہے۔ ماتمی جلوس برامد کرنے کی پاداش میں انکو قتل کردیا گیا تھا۔ مولانا ثاقب حسین امروہوی نےکچھ اشعار میں واقعہ اس طرح بیان کیا ہے۔

شاہ مسکین عہد عالم گیر میں ایران سے

آئے امروہا اٹھائے یہ علم کس شان سے

شہر کے قاضی معین الدین نے بدعت کہا

اور انکے قتل کا شنجرف سے فتوا لکھا

دستخط تائیدی دو سو مفتیوں نے کردئے

اس عزاداری کے بانی اس طرح مارے گئے

پڑھئے ثاقب فاتحہ اسلام کا آئین ہے

زیر در حسب وصیت تربت مسکین ہے

شاہجہان آباد سے امروہا آئی  نورن  نامی خاتون نے عزا خانہ تعمیر کرایا اور چھ محرم  کے ماتمی جلوس کی ابتدا کی۔ ۔سن1222 ہجری میں انہوں نے عزاداری شروع کی۔

 مسماۃ نورن کے  ذریعے تعمیر کردہ یہ عزا خانہ اپنے آرائشی سامان، فن تعمیر اورفیوض و برکات کے معاملے میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔شیشے کے قیمتی آرائشی سامان کے  معاملے میں مسماۃ نورن کا عزا خانہ امروہا میں تیسرے نمبر پر قرار دیا جاتا ہے۔

عزا خانہ مسماۃ نورن  میں موجود جھاڑ خوبصورت اور دیدہ زیب ہونے کے ساتھ ساتھ سائز کے لحاظ سے کافی بڑے ہیں۔عزا خانہ کے ذمہ داروں نے اس بات کا خیال رکھا ہیکہ جھاڑوں کی قلمیں تک صحیح وسالم ہیں۔ فانوس تو کیا کسی جھاڑ میں کسی دوسرے  رنگ کی قلم تک استعمال نہیں کی گئی ہے۔  پورا جھاڑ اپنے آپ میں ایک مکمل مرقع نظر آتا ہے۔متعدد رنگ برنگی شیشے کی ہانڈیاں بھی عزا خانے کی رونق میں اضافہ کرتی ہیں۔آرائشی سامان کے علاوہ یہ عزا خانہ دیگر  کئی خصوصیات کا حامل ہے۔شہر کا یہ واحد عزا  خانہ ہے جہاں سب سے زیاہ چڑھاوا آتا ہے۔شہ نشین جسے عزا خانہ کے ذمہ داران حضور کہتے ہیں وہاں خواتین کاداخلہ ممنوع ہے۔شہ نشین کے بعد دالان اور چبوترے پرتمباکو نوشی کی اجازت نہیں ہے۔

عزا خانہ سے برامد ہونے والا جلوس اور دیگر عزا ئی تبرکات بھی منفرد ہیں۔ جلوس میں شامل  شبیہ تابوت جسے تخت بھی کہتے ہیں دیگر تختوں کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔ اسکی تیاری کا اسٹائل بھی مختلف ہے۔ عزا خانہ نورن کے ماتمی جلوس  میں شامل شبیہ تابوت ایک دور میں کچھ شر پسند عناصر کی بیہودہ شکایت پر پولیس تحویل  میں بھی رکھا جا چکاہے۔

جلوس میں شامل ذولجناح کے زیورات  بھی عزا خانے کی ذاتی ملکیت ہیں۔جلوس  کا حسینی باجہ بجائے جانے کا اسٹائل بھی دیگر جلوسوں سے مختلف رہتا ہے۔ عاشورہ کو تربتیں صبح سویرے دفن کردی  جاتی ہیں۔عزا خانہ میں نوبت اذان صبح سے پہلے  بجائی جاتی ہے۔ایام عزا کے علاوہ  سال  بھر جمعرات اور نو چندی جمعرات کو عزاخانہ میں خاص گہما گہمی رہتی ہے۔ لوگوں کا عقیدہ ہے  کہ اس عزا خانہ میں مانی ہوئی  انکی منتیں اور مرادیں پوری ہوتی ہیں۔

Related posts

خواتین کے خاص دنوں میں حفظان صحت کے عالمی دن’ پر جلسہ

qaumikhabrein

ایرانی بحریہ مصنوعی ذہانت سے لیس میزائلوں کی حامل

qaumikhabrein

آفتاب مرثیہ خوانی غروب ہو گیا۔ حیدر نواب جعفری کا انتقال

qaumikhabrein

Leave a Comment