qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امروہا ۔ عزاداری ثقافتی ورثہ بھی ہے روایت کی پاسداری بھی

عزاداری نہ صرف شہیدان کربلا کا غم منانے کا  وسیلہ ہے بلکہ یہ قوم کا ثقافتی ورثہ بھی ہے۔امروہا کی عزا داری کا  اہم پہلو ماتمی جلوس ہیں جو اپنے عزا ئی لوازمات، نظم و  ترتیب اورصف بندی کے ساتھ ساتھ وضع داری اور خاندانی روایات و تہزیب سے مزین ہے۔ تین محرم سے آٹھ محرم تک مختلف عزا خانوں سے برامد ہونے والے ماتمی جلوس شبیہ تابوت، شبیہ ذلجناح اور علموں کے بغیر نامکمل ہیں۔ان عزا ئی لوازمات کی تیاری اپنے آپ میں روحانی نوعیت کی عزائی خدمت ہے۔کچھ خاص افراد ہی ان خدمات کو انجام دیتے ہیں۔

شبیہ تابوت اور شبیہ ذولجناح تیار کرنے والے افراد اپنے بزرگوں کی وراثت کی حفاظت بھی کررہے ہیں اور عزائی خدمت انجام دیکر امام مظلوم سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔تابوت و دلدل  کی تیاری اور کمنٹے کے علموں کی کسائی ان عزا ئی خدمات میں شامل ہیں جو پردے کے پیچھے انجام دی جاتی ہیں۔ جو جلوس عزا کے دوران نظر آتی ہیں۔ تابوت اور دلدل کی تیاری  کی  خدمات صرف چند افراد کے حصے میں آتی  ہے۔ جو الگ الگ تاریخوں کے جلوسوں کے حوالے سے انجام دی جاتی ہیں۔

باقرمنتظر عرف حکیم چاند تین محرم . پانچ  محرم , آٹھ محرم   اور دس محرم کے تخت( تابوت) اور ذولجناح تیار کرتے ہیں جبکہ شاعر اہل بیت حسین رضا چار محرم، چھ محرم اور سات محرم کے  جلوس کے لئے یہ عزائی خدمت انجام دیتے ہیں۔ انتظار حسین ہر تاریخ کے جلوس کی تیاری میں شریک رہتے ہیں۔ حکیم چاند اپنے نانا مرحوم سیادت مدد کی وراثت سنبھالے ہوئے ہیں۔ مرحوم سیادت مدد کی عزا ئی خدمت کی  یہ وراثت پوتوں  کی جگہ نواسے کو منتقل ہوئی.

اسی طرح حسن رضا مرحوم کی وراثت انکے بڑے فرزند قاسم رضا کی جگہ چھوٹے فرزند حسنین رضا کو منتقل ہوئی۔ حکیم چاند بچپن سے اپنے نانا کے ساتھ اور حسنین رضا بچپن سے اپنے والد حسن رضا کے ساتھ لگے رہتے تھے اور ہر کام کو غور سے دیکھا کرتے تھے۔ان بزرگوں کے دنیا سے رخصت  ہونے کےبعد فرض عقیدت کے طور یہ لوگ  یہ ذمہ داریاں انجام دےرہے ہیں۔

تابوت و ذولجناح کی چادر اور  پھریرے کے علم  ایک خاص قسم کے رنگ سے رنگے جاتے ہیں جو خون کے رنگ جیسا ہوتا ہے۔ پرانے دور میں جلوس کا اہتمام کرنے والے متولی ڈھائی روپئے رنگ وغیرہ کے لئے ادا کرتے تھے۔ جو بعد میں دس روپئے ہو گئے تھے لیکن حکیم  چاند رنگ وغیرہ کے اخراجات اپنی جیب خاص سے ادا کرتے ہیں۔ ۔  تخت پر ساڑھے چھ میٹر کپڑا لگتا ہے۔ یہ بات بھی اہم اور قابل ذکر ہیکہ  ہر تاریخ  کےجلوس  کے تخت کی تیاری  کا اسٹائل یکساں نہیں ہوتا۔تین  اور  آٹھ کا اسٹائل یکساں ہے۔  چھ  محرم   کااسٹائل مختلف ہے۔ سات اور چار کے تخت کی تیاری کا اسٹائل  بھی یکساں ہے۔ چھہ  محرم  کو   برامد ہونے والاتابوت بقیہ تابوتوں  سے بڑا ہے۔ اس پر زیادہ کپڑا لگتا ہے۔تابوت پر پگڑی اور قرآن مجید رکھا جاتا ہے.

ذولجناح کی چادر کی لمبائی سات میٹر ہوتی ہے۔پہلے صرف ذولجناح کو زیورات سے سجایا جاتا تھا لیکن اب تابوت کو بھی چاندی کے زیورات سے سجایا جانے لگ ہے۔ کچھ مومنین یہ کہتے ہوئے اسکی مخالفت کرتے ہیں کہ تابوت شہید کے جنازے کی شبیہ ہے اور جنازے کو زیورات سے نہیں سجایا جاتا۔

کمنڈے کے علم کی کسائی بھی ایک فن ہے جسے ہر کس و ناکس نہیں کرسکتا ۔حسنین رضا اس کام کے بھی ماہر ہیں انہوں نے کئی نوجوانوں کو یہ کام سکھا بھی دیا ہے ۔یہ بات خوش آئند ہیکہ امروہا کی عزاداری کی روایت کو نئی نسل نہت ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ کر نبھا رہی ہے۔

Related posts

عزاداری کو عبادتوں کی قبولیت کا وسیلہ بنایا جائے: مولانا سید محمود رضوی

qaumikhabrein

جسٹس زیب النسا کی نظر میں بھی حجاب اسلام کا لازمی حصہ نہیں

qaumikhabrein

آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی بہو کو لال قلعہ چاہئے۔

qaumikhabrein

Leave a Comment