qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

مولانا سیادت کی موت کے صدمے سے نکل نہیں پا رہے ہیں لوگ

شہر امروہا کی عظیم علمی،ادبی اور مذہبی ہستی ڈاکٹر سید محمد سیادت  کی  موت کا صدمہ کم نہیں ہورہا ہے۔ امروہا اور  بیرون امروہا انکی تعزیت کے حوالے سے مختلف سماجی، ثقافتی، ادبی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے جلسوں نشستوں اور مجالس کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ مولانا ڈاکٹر سیادت کے چہلم کی مجلس چار اکتوبر کو محلہ شفاعت پوتہ کے حسینی ہال میں برپا ہوگی جس سے مولانا کلب جواب خطاب کریں گے۔جن ادبی، مذہبی اور ثقافتی انجمنوں کی جانب سے مولانا مرحوم  کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی جلسوں اور نشستوں کا اہتام کیا  گیا ہے ان میں کاروان خلوص، انجمن رضاکاران حسینی، حسینی پیس مشن اور انجمن اکبری شامل ہیں۔

‘کاروانِ خُلوص’ کی جانب سے ممتاز عالمِ دین مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت نقوی طاب ثراہ کی علمی و ملی خدمات کا اعتراف کرنے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک باوقار ‘جلسہ اظہارِ تعزیت’ کا اہتمام کیا گیا۔

​ ادیب و دانشور پروفیسر ناشر نقوی نے اس تعزیتی جلسے کی نظامت کی۔ تعزیتی نشست میںمولانا مرحوم کے فرزند و جانشین مولانا ڈاکٹڑ احسن اختر سروش اور مرحوم کے بھائی پروفیسر حسنین اختر سمیت امروہہ کی ادبی اور سماجی شخصیات موجود تھیں۔   نواب مراد علی خان، ، سید محبوب زیدی اور سید اویس رضوی نے مولانا مرحوم کی علمی، دینی اور ملی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی رحلت کو ایک عظیم نقصان قرار دیا۔

مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت نقوی کی یاد میں انجمن رضاکاران حسینی کی جانب سے بھی جلسہ تعزیت کا اہتمام کیا گیا۔جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی سماجی اور علمی شخصیتوں نے شرکت کی۔

مرکزی دارالحکومت دہلی میں  حسینی پیس مشن کی جانب سے مولانا ڈاکٹر سید محمد سیادت نقوی کی یاد میں د دعائیہ تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا۔اس تعزیتی جلسے میں دیگر علما  کے ساتھ ساتھ مرحوم کے بھائی پروفیسر حسنین اختر بھی موجود تھے۔بزم شعرائے اہل بیت کی جانب سے اظہار تعزیت کے لئے محفل حمد و نعت و منقبت کا اہتمام کیا گیا۔جس میں مولانا کے فرزند اور مسجد اشرف المساجد کے موجودہ پیش امام ڈاکٹر احسن اختر سروش بھی موجود تھے۔

گزشتہ 31 اگست کو  مسجد اشرف المساجد کے امام جمعہ و جماعت ڈاکٹر مولانا محمد سیادت کا 86 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا۔وہ اپنے والد سید محمد عبادت کی موت کے بعد سے 1988 سے اشرف المساجد  کے امام کی  حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔جے ایس ڈگری کالج کے سابق  سربراہ شعبہ اردو ڈاکٹر محمد سیادت بین امسلکی اتحاد کے علمبردار تھے۔وہ نثر و نظم پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ متعدد اردو اسکالرز نے انکی نگرانی میں تحقیقی مقالات تحریر  کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں

Related posts

143 واں مفت ہیلتھ کیمپ امام حسین کی قربانی سے منسوب

qaumikhabrein

مولانا کلب جواد کے خیمے میں میرے حامی ہیں۔گستاخ قرآن وسیم کا سنسنی خیز دعویٰ۔

qaumikhabrein

ملبے کے درمیان  نماز و روزہ۔۔ صبر و استقامت کی زندہ مثال

qaumikhabrein

Leave a Comment