qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

جنگی مجرم کو یو این اجلاس سے خطاب کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔

بائیس ستمبر 2026 کی شام سے لے کر اقوام متحدہ کی عمارت جس منظر کی گواہ بنی وہ محض ایک اور خطاب نہیں بلکہ عالمی ضمیر کے دیوالیہ پن کا کھلا اعلان تھا۔ بنیامین نیتن یاہو، جس کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت پہلے ہی نومبر 2024 میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کر چکی ہے، اسی ہال کے اسٹیج پر کھڑا ہو کر دنیا کو درس اخلاق دیتا رہا۔ یہ عدالت وہی ہے جس نے بھوک کو ہتھیار بنانے، قتل اور ظلم جیسے الزامات پر اس کا نام فرد جرم میں لکھا؛ الگ سے عالمی عدالت انصاف میں غزہ کے حوالے سے نسل کشی کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔ مگر جس ادارے کو انصاف کا علمبردار کہا جاتا ہے وہی 1947 کے پرانے معاہدے کی آڑ میں ایک مطلوب شخص کو باعزت مہمان کی طرح سٹیج پر بلا لیتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل چونکہ روم اسٹیچیوٹ کے رکن ہی نہیں، اس لیے قانون کی زبان میں یہ سب “جائز” ٹھہرتا ہے۔ یعنی انصاف کا پیمانہ رکنیت کی فہرست پر منحصر ہے، جرم کی سنگینی پر نہیں۔ یہی وہ منافقت ہے جس پر دنیا بھر میں انگلیاں اٹھتی ہیں اور بجا اٹھتی ہیں۔

دنیا کو دھمکی دیتا جنگی مجرم

۔پھر آیا وہ منظر جسے کوئی بھی سنجیدہ سفارتی روایت گوارا نہ کرے: ایک عالمی رہنما جنرل اسمبلی کے فورم پر ایک عام سا پیجر ہاتھ میں بلند کیے کھڑا تھا، گویا یہ کوئی اسٹیج شو ہو۔ یہ وہی پیجر تھا جس کی یاد دلا کر اس نے سترہ ستمبر 2024 کے اس دن کا ذکر چھیڑا جب حزب اللہ کارکنوں کو تقسیم کیے گئے ہزاروں پیجرز بیک وقت دور سے دھماکے سے اڑا دیے گئے تھے، جس میں تین ہزار سے زائد افراد زخمی اور بارہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو معصوم بچے بھی شامل تھے۔ اس واقعے کو فخر سے دہرانا اور اس کی یاد کو بطور “کامیابی” پیش کرنا محض یادداشت تازہ کرنا نہیں بلکہ ایک حساب کتاب سے رکھا گیا پیغام تھا: کہ اسرائیل کسی بھی وقت، کسی بھی حریف کے خلاف، بلا اعلان اور بلا تفریق شہری و غیر شہری، اسی طرح کا وار دہرا سکتا ہے۔ اسی سانس میں اس نے اسٹار لنک کا آلہ بھی بلند کیا اور طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ وہ ایرانی وفد کے لیے چھوڑ جائے گا تاکہ جب وہ “منحرف” ہوں تو اپنی کہانی سنا سکیں۔ یہ سفارت کاری نہیں، دھونس اور دھمکی کا کھلا مظاہرہ تھا، جس میں طاقت کے زعم میں ڈوبا ایک لہجہ صاف جھلکتا تھا۔

اور جب یہی شخص اسٹیج پر آیا تو اس سے پہلے ہی درجنوں ممالک کے نمائندے ہال سے نکل گئے۔ اس پر بھی اس نے پچھتاوے یا تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے طنز کا تازیانہ چلایا: “اگر ہال میں کوئی اور اخلاقی بزدل باقی رہ گیا ہو تو ابھی چلا جائے۔” یہ الفاظ اس ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو اپنی جنگ کے ہر ناقد کو بزدل، متعصب یا دشمن کے آلہ کار سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی۔ حالانکہ جن وجوہات کی بنا پر یہ ممالک باہر نکلے وہ کوئی معمولی بات نہیں — غزہ میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت، بھوک سے بلکتے بچے، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی بے لگام توسیع۔ ان تمام حقائق کے باوجود اسٹیج پر کھڑا شخص خود کو مظلوم اور دنیا کو ظالم ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہا، اور یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ اگر اس نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو “ہم سب مر چکے ہوتے” — ایک ایسا بیانیہ جو ہر جارحیت کو دفاع کا نام دے کر جواز فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا یہ اجلاس محض ایک خطاب نہیں بلکہ اس عالمی نظام کی بے بسی کا مظہر تھا جو خود اپنے قوانین کے سامنے بے دست و پا کھڑا ہے۔ ایک طرف عدالتی وارنٹ کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوتی، دوسری طرف اسی شخص کو دنیا کے سب سے بڑے فورم پر بولنے کا موقع مل جاتا ہے — اور وہ بھی اس گھمنڈ کے ساتھ کہ گویا احتساب کا لفظ اس کی لغت میں سرے سے موجود ہی نہ ہو

Related posts

آنگ سانگ سوکی کو پاچ برس قید کی سزا

qaumikhabrein

ایرانی سائنسداں اب موروثی سرطان کا جلد پتہ لگا سکتے ہیں۔

qaumikhabrein

امروہا میں ایام عزا کے استقبال میں مسالمہ

qaumikhabrein

Leave a Comment