
حسیب زہرا (عمر 61 سال، ساکن امروہا) کو 14 ستمبر 2026 کو سینے میں شدید درد اور دونوں بازوؤں میں درد پھیلنے کی شکایت پر فوری طور پر ٹی ایم یو اسپتال (دہلی–مرادآباد روڈ، پاکبڑا) کی ایمرجنسی میں داخل کرایاگیا۔ ای سی جی میں خرابی سامنے آنے پر ڈاکٹروں نے کورونری اینجیوگرافی کی، جو ڈاکٹر شلبھ اگروال (کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ) کی نگرانی میں انجام پائی۔ رپورٹ کے مطابق مریضہ کی مین آرٹری (LAD) میں 70-80% بلاکیج، ایک اور شریان (OM1) میں 100% بندش، اور مجموعی طور پر تین شریانوں میں بیماری (CAD-TVD) پائی گئی۔ ڈاکٹر شلبھ نے واضح طور پر کہا کہ اسٹینٹ سے کام نہیں چلے گا، فوری بائی پاس سرجری (CABG) کرانی ہوگی، اور اس کا خرچ ڈھائی لاکھ روپے بتایا۔ مریضہ کے بیٹوں نے سوچ سمجھ کر اگلے دن سرجری کے لیے حامی بھر لی۔

یہاں تک سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔
لیکن جیسے ہی مریضہ کے بیٹے نے بتایا کہ اس کے والد (ریلوے سے ریٹائرڈ ملازم) کے پاس میڈیکل انشورنس کی سہولت ہے اور UMID کارڈ کے ذریعے سرجری کا خرچ براہِ راست ریلوے ادا کرے گا — ڈاکٹروں اور اسپتال انتظامیہ کا رویہ یکسر بدل گیا۔
تھوڑی دیر بعد انہیں بتایا گیا کہ “مریضہ کے ہارٹ والوز میں بھی مسئلہ ہے، کیس پیچیدہ ہے، اور اسپتال کے پاس اس کو سنبھالنے کی سہولت نہیں — مریضہ کو ڈسچارج کیا جا رہا ہے، کہیں اور لے جائیں۔”
یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے:
ہارٹ والوز کے مسئلے کا پتہ کیسے چلا، جبکہ صرف اینجیوگرافی ہوئی تھی — ایکو کارڈیوگرافی (Echo) تو ہوئی ہی نہیں؟ ایک دن پہلے جس اسپتال کو کیس “قابلِ علاج اور سیدھا” نظر آ رہا تھا، انشورنس کارڈ دیکھتے ہی وہی کیس اچانک “پیچیدہ اور ناقابلِ سنبھال” کیسے بن گیا؟
اس تضاد نے یہ سوال ذہن میں راسخ کر دیا کہ جہاں نقد ادائیگی متوقع تھی وہاں سرجری کی حامی، اور جہاں انشورنس کے ذریعے کم منافع کا اندیشہ ہوا، وہاں بہانہ بنا کر مریضہ کو رخصت کر دیا گیا۔

اسپتال کی طرف سے دی گئی ڈسچارج سمری میں ڈسچارج کی وجہ یہ درج کی گئی کہ “مریضہ نے خود ڈسچارج کی درخواست کی” — جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ نہ مریضہ نے اور نہ ہی ان کے بیٹوں نے کبھی ڈسچارج کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے برعکس، بیٹے مسلسل اصرار کرتے رہے کہ ان کی والدہ کا آپریشن اسی اسپتال میں کیا جائے۔
عام طبی روایت کے مطابق، جب کوئی مریض یا اس کے اہلِ خانہ نازک حالت میں خود اسپتال چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو اسپتال ان سے باقاعدہ ایک تحریری بیان (DAMA — Discharge Against Medical Advice) لکھواتا ہے جس میں وہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے جا رہے ہیں اور اس کے نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ اس معاملے میں ایسی کوئی تحریر نہیں لی گئی — کیونکہ حقیقت میں ڈسچارج مانگا ہی نہیں گیا تھا۔

یہ بات صاف ظاہر کرتی ہے کہ اصل وجہ مریضہ کی خواہش نہیں بلکہ نقد رقم کی عدم دستیابی تھی۔ چونکہ سرجری کی رقم فوری نقد صورت میں دستیاب نہیں تھی اور معاملہ انشورنس کلیم کے ذریعے طے ہونا تھا، اسپتال انتظامیہ نے مریضہ کو جلد از جلد رخصت کرنے کو ترجیح دی — اور بعد میں اپنے ریکارڈ میں اس حقیقت کو چھپانے کے لیے جھوٹی وجہ درج کر دی۔
