qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

کویت میں سلامتی کے نام پر شیعہ برادری پر خطرات

کویت کی ایک عدالت نے تین افراد کو سزائے موت سنائی۔ ان میں شیعہ عالم دین حسین عبداللہ المعتوق بھی ہیں جو نیشنل اسلامک الائنس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ باقی دو افراد حسن عبدالہادی حجیہ اور ایرانی شہری عبدالرضا حیدر دہقانی ہیں۔ آٹھ دیگر ملزمان کو پانچ پانچ سال قید کی سزا ملی۔ الزامات میں وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف الصباح کے قتل کی سازش، ایران کے لیے جاسوسی اور حزب اللہ میں شمولیت شامل ہیں۔ یہ فیصلہ ابھی قابل اپیل ہے، مگر اس نے ایک پرانا سوال پھر زندہ کر دیا ہے: کیا کویت میں سلامتی کے مقدمات انصاف کے تقاضوں کے مطابق چلتے ہیں، یا ان کا رخ ایک پوری برادری کی طرف مڑ جاتا ہے؟ اس سوال کی جڑیں آج کی نہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں برسوں سے کہتی آئی ہیں کہ کویت کے شیعہ شہری سماجی، معاشی اور سیاسی میدان میں پسماندگی کا شکار ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں اوپر پہنچنے کے راستے ان کے لیے تنگ ہیں اور حکومت اور پارلیمان میں ان کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے۔ 2015 میں شیعہ مسجد پر داعش کے خونی حملے میں 27 نمازی شہید ہوئے، مگر اس کے بعد بھی گرفتاریوں کی زد میں شیعہ افراد ہی آئے جن پر حزب اللہ سے روابط کا الزام لگا۔ 2021 میں بزرگ شیعہ شہریوں کو بغیر کسی باقاعدہ الزام کے حراست میں لینے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ شیعہ برادری میں یہ احساس پرانا ہے کہ وہ شہری سے پہلے مشتبہ سمجھی جاتی ہے۔

حالیہ امریکہ اسرائیل ایران جنگ نے اس احساس کو اور گہرا کر دیا۔ ایران نے خلیجی ملکوں میں امریکی اڈوں اور دیگر اہداف پر حملے کیے اور کویت بھی ان کی زد میں آیا۔ اس کے بعد حکومت نے سخت سکیورٹی مہم شروع کی، مارچ میں درجنوں گرفتاریوں کا اعلان ہوا، اور حزب اللہ کے ساتھ تعلق کے الزامات سامنے آئے۔ حزب اللہ ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور بتایا گیا ہے کہ مبینہ منصوبوں کے نتیجے میں کوئی حملہ عملاً ہوا ہی نہیں۔ ناقدین پوچھتے ہیں کہ اگر خطرہ اتنا حقیقی اور قریب تھا تو شفافیت کہاں ہے، اور شواہد عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھے جاتے؟ ایک ایسے ملک میں جہاں ایران کی جارحیت کا نشانہ سب کویتی بنے، شیعہ شہریوں کو اجتماعی طور پر ایران کا ہم نوا ٹھہرانا ناانصافی ہے۔

کویتی امیر

اس مقدمے کی ساخت بھی سوال اٹھاتی ہے۔ فرد جرم میں مذہبی رہنما، ایرانی شہری اور حزب اللہ ایک ہی لڑی میں پروئے گئے ہیں، اور الزام کا مرکزی تاثر یہ ہے کہ ملزمان نے ایران اور اس کے حلیف گروہوں سے رابطہ کیا، وہ بھی خامنہ ای کی ہلاکت کے فوراً بعد۔ انسانی حقوق کے حامی یاد دلاتے ہیں کہ ایران سے ہمدردی یا کسی رہنما کی ہلاکت پر رنج کا اظہار، بذات خود غداری یا جاسوسی نہیں۔ جب ریاست جذباتی وابستگی اور عملی سازش کے درمیان فرق مٹا دے تو شہریوں کا اعتماد ٹوٹتا ہے۔ سزائے موت جیسی ناقابل واپسی سزا کے لیے تو شفاف سماعت، آزاد دفاع اور ٹھوس ثبوت کا معیار اور بھی بلند ہونا چاہیے۔ سزا پانے والوں میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو 2016 میں سزا کے بعد امیر کی معافی سے رہا ہوا اور اپریل میں دوبارہ گرفتار ہوا، اور اس کا معاملہ بھی اس بحث میں عدالتی انصاف کے ساتھ ریاستی رویے کا سوال بن کر ابھرتا ہے۔

خطے کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب حکومتیں اندرونی بے چینی کو مسلکی رنگ دے دیتی ہیں تو اس کی قیمت سب سے پہلے اصلاح اور سیاسی شرکت کی آوازیں چکاتی ہیں۔ بحرین میں 2011 کے بعد یہی ہوا۔ کویت اپنی نسبتاً کھلی سیاسی فضا پر فخر کرتا ہے، مگر یہ فخر تب ہی معنی رکھتا ہے جب اقلیت کو بھی برابر کے حقوق اور منصفانہ عدالتی عمل ملے۔ اگر سلامتی کے خدشات کو پوری شیعہ برادری کے خلاف بدگمانی میں بدل دیا گیا تو اس کا نقصان کویت کی قومی یک جہتی کو ہوگا، اور یہ نقصان کسی ایرانی میزائل سے کم نہیں ہوگا۔

اس تنقید کے مقابل کویتی حکومت اور اس کے حامیوں کا موقف یہ ہے کہ یہ مقدمہ مسلک کا نہیں، قتل کی سازش اور دھماکہ خیز مواد کے الزامات کا ہے۔ ان کے بقول جنگ کے دوران، جب کویت خود ایرانی حملوں کی زد میں تھا، ریاست پر لازم تھا کہ وہ بیرونی اشاروں پر کام کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرے، اور عدالت نے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے جس کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے۔ حقیقت کا فیصلہ اب اپیل کی عدالتوں اور شواہد کی شفافیت پر ہے

Related posts

توہین عدالت کیس: عمران خان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

qaumikhabrein

‘احترام منبر مہم ‘ کے خلاف مولانا آغا روحی میدان میں

qaumikhabrein

بحرینی شیعہ اربعین میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔ حکومت نے لگائی پابندی

qaumikhabrein

Leave a Comment