
اتر پردیش پولیس کورونا کرفیو پر لوگوں سے کس طرح عمل درامد کرا رہی ہے اسکا نمونہ بریلی،راے بریلی اور مؤ میں دیکھنے کو ملا جہاں ماسک نہیں لگانے پر پولیس نے ایک شخص کے ہاتھ اور پیر میں کیلیں ٹھونک دیں۔ کہیں کرفیو کی مبینہ خلاف ورزی کرنے پر لوگوں کا پیٹ پیٹ کر برا حال کردیا گیا تو کہیں لوگوں کو زبردستی تھانے میں رات بھر بند رکھا گیا اور انکی پٹائی کی گئی۔ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کی خبر کے مطابق بریلی کے بارہ دری پولیس اسٹیشن کے تحت رہنے والے رنجیت کے ہاتھ اور پیر میں کیلیں ٹھوکنے کا پولیس پر الزام لگا ہے۔ رنجیت کےگھر والوں کا کہنا ہیکہ وہ رات کو دس بجے کے قریب گھر کے باہر بیٹھا تھا۔

۔ گشت کرنے والے پولیس اہلکار اسے دیکھ کر بپھر گئے اور اسے تھانے لے گئے اور اسکے ایک ہاتھ اور ایک پیر میں کیلیں ٹھونک دیں۔ اسے بری طرح پیٹا بھی گیا۔ رنجیت کی ماں نے تھانے میں شکایت کی لیکن ایس ایس پی روہت سج وان فرماتے ہیں کہ پولیس کو بدنام کرنے کے لئے رنجیت نے خود ہی اپنے ہاتھ پیر میں کیلیں ٹھونک لیں۔ دوسرا کیس ضلع مؤ کے محمد آباد علاقے کا ہے۔ وہاں بھی ایک شخص گھر کے باہر بیٹھا ہوا تھا دو پولیس اہلکار اسے گھسیٹتے ہوئے تھانے لے گئے اور اسکو خوب پیٹا۔ اسکا ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔ پولیس نے واقعہ کی جانچ کی بات کہی ہے۔ پولیس کی ظالمانہ طبیعت کا تیسرا کیس رائے بریلی کا ہے۔ بہن کے تلک کی رسم کرکے لوٹ رہے پانچ جوانوں کو پولیس نے پکڑ لیا۔ رات بھر تھانے میں بند رکھا۔ اور سوچی چوکی میں انکی بری طرح پٹائی کی۔ رائے بریلی کے سر سرا گاؤں کے لو کش، شیوا کانت، راہل، ونے کمار اور ویپن تیواری دوست کی بہن کا تلک چڑھا کر لوٹ رہے تھے انکی کار کو پولیس نے روک اور پکڑ کر تھانے لے گئی۔ پولیس کا کہنا ہیکہ لڑکوں نے گاڑی نہیں روکی تھی۔ انکی گاڑی کو 112 نمبر پولیس کی مدد سے روکا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہیکہ پانچوں شراب کے نشے میں تھے اور انہوں نے پولیس سے بد تمیزی کی تھی۔یہ تین واقعات تو محض بانگی بھر ہیں جن سے یو پی پولیس کا ظالمانہ رویہ سامنے آتا ہے۔
