
سرسی سادات میں رئیس العلما علامہ سید محمد سبطین جعفری سرسوی کی یادمیں ایک سمپوزیم منعقد کیا گیا۔ رونق رضا نقوی ،سابق چئیرمین سرسی سادات کے مکان پرمنعقدہ سمپوزیم کا آغاز مولانا سبحان اصغر سرسوی (نجفی) نے تلاوت حدیث کساء سے کیا۔ سرور کائنات کے حضور نعت کا نزرانہ حسین سرسوی نے پیش کیا۔نظامت معصوم ؔ سرسوی نے کی۔جبکہ صدارت مولانا فرازؔواسطی سینتھلی نے کی۔اس موقع پرتقریر کرتے ہوئے مولانا منور رضا سرسوی نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علامہ سبطین سرسوی کے علمی سرمایہ سے استفادہ کیا جائے۔

مولانا منظرعباس سرسوی (امروہہ)نے علامہ محمد سبطین سرسوی کی علمی خدمات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ولادت 1885 میں سرسی میں ہوئی ابتدائی تعلیم وطن میں ہوئی اس کے بعد منصبیہ عربی کالج میرٹھ میں تعلیم حاصل کی پھر پنجاب میں متعدد جگہوں پر درس و تدریس میں مشغول رہے۔ مضمون نگاری کا بھی شوق تھا چنانچہ لدھیانہ سے ہی ایک رسالہ ”البرہان“ نکالا۔جس نے طویل عرصہ تک ملک و قوم کی خدمت کی۔علامہ کی خدمات کو تا قیامت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ملک کی آزادی سے چند روز قبل علامہ نے کربلائے معلی میں انتقال فرمایا اور وہیں حرم سید الشہداء میں دفن ہوئے۔ انقلاب ؔسرسوی،شبیہ حیدرؔ سرسوی،وقار ؔسرسوی،ثامنؔ سرسوی،اختر سرسوی،مولانا محمد حسن ؔسرسوی،مولانا عابسؔ سرسوی،محتشم ؔسرسوی،بلال سرسوی،نوشاد ؔ سنبھلی اورعرفی سرسوی، منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر سرسی کی کچھ نامور ہستیوں کو علامہ محمد سبطین سرسوی ایوارڈ سے نوازہ گیا۔ مولانا منور رضا اور مولانا اقتدار مہدی مرحوم(بستی میں دینی خدمات)،انقلاب ؔسرسوی،نیرؔ سرسوی مرحوم،اخترؔ ؔسرسوی(رثائی ادب)،ساحل ؔسرسوی مرحوم(مخصوص لب و لہجہ)،نوابؔ سرسوی مرحوم (نوحہ خوانی)خورشید انور ارم ؔسرسوی (مرثیہ خوانی)،ثامنؔ سرسوی(تحت اللفظ مرثیہ خوانی)ماسٹر ظفر عباس (نبیرہ علامہ محمد سبطین سرسوی)کو انعام سے نوازہ گیا۔
مولانا شمیم حیدر،مولانا ڈاکٹر شمیم شوذب،مولانا ثمر عباس،مولانا اقرار رضا،مولانا غضنفر عباس،مولانا عامر عباس،مولانا انعام حیدر،مولانا محمد جابر کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ سمپوزیم کے کنوینر مولانا احتشام علی امام جمعہ و جماعت سرسی سادات نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

