qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

فلسطین کی حمایت میں ٹویٹ کرنے کی صحافی کو ملی سزا۔ اے پی نے ہٹایا ملازمت سے۔

غیر جانبدار سمجھی جانے والی امریکی خبر رساں ایجنسی ایسو سی ایٹیڈ پریس اے پی نے اپنی ایک صحافی ملازمہ کو صرف اس بنا پر ملازمت سے الگ کردیا کہ اس نے فلسطین کی حمایت میں ٹویٹر پر مواد پوسٹ کیا تھا۔ اے پی کی نظر میں صحافی کی پوسٹ متعصبانہ تھی اور ایجنسی کی سوشل میڈیا پالیسی کے خلاف تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایمیلی ویلڈر نامی صحافی کو تین مئی کو ملازمت پر رکھا گیا تھا اور محض سولہ روز بعد ہی اسے ملازمت سے الگ کردیا گیا۔

اایمیلی ویلڈر۔ فلسطین کی حمایت کرنے پر گئی ملازمت

ایمیلی ویلڈر پر الزام ہیکہ اس نے ایجنسی کی سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایمیلی ویلڈر نے ایجنسی کے فیصلے کو المناک قرار دیا ہے۔ ایمیلی کا کہنا ہیکہ اسکو یہ نہیں بتایا گیا کہ اسکی کون سی پوسٹ ایجنسی کی پالیسی کے خلاف ہے۔ اسکو بتایا گیا کہ مسئلہ فلسطین پر اسکی ٹویٹر پوسٹ متعصبانہ تھی۔ اپنی ٹویٹر پوسٹ میں ایمیلی فلسطینی عوام کی وکالت اور اسرائیلی حکومت کی کاروائیوں کی مخالفت کرتی رہتی ہے۔ ایمیلی ویلڈر کے مطابق وہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں فلسطینی حامی یہودی گروپ کی سرگرم ممبر تھی۔ ایمیلی نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے 2020 میں گریجویشن کیا تھا۔ اسکی ٹویٹر ٹائم لائن اسرائیل فلسطین معاملے سے متعلق پوسٹ سے بھری ہوئی ہے۔ اتوار کو اس نے ایک ٹویٹر میں مشرقی یروشلم کے مضافاتی علاقہ شیخ جراح کی صورتحال کو پیش کرنے کے لئے میڈیا کی تنقید کی۔ شیخ جراح میں اسرائیلی فوج، یہودی آباد کاروں اور فلسطینی باشندوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ ایمیلی کی گزشتہ پوسٹوں کا حوالہ دیکر ٹویٹر صارفین ایمیلی کو ملازمت دینے کے لئے اے پی کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ ایمیلی کی نظر میں ایجنسی نے تنقید کی وجہ سے اسکے خلاف کاروائی کی۔

Related posts

علما بقیع کی تحریک کو دنیا تک پہنچائیں ۔ آیت اللہ سید حمید الحسن کی اپیل

qaumikhabrein

محمد ضیا الدین صدیقی وحدت اسلامی ہند کے نئے امیر منتخب

qaumikhabrein

افسانہ نگار عارف خورشید کی یاد میں تہنیتی جلسہ۔

qaumikhabrein

Leave a Comment