سعودی عرب کے صحافی عدنان خاشگجی کے قتل کا جن یک بار پھر باہر آگیا یے اور سعودی ولی عید محمد بن سلمان اس بار بری طرح گھر گئے ہیں۔
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی عدنان خاشگجی کے قتل کے لئے ذمہ دار گردانا ہے۔
امریکی خفیہ ایجنسی کی چار صفحات پر مشتمل رپورٹ ڈائیریکٹر انٹیلیجنس کو پیش کی جا چکی ہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ کو منظر عام پر نہیں آنے دیا تھا لیکن نئے صدر جو بائڈن نے اپنی چناؤ مہم کے دوران رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا تھا۔سی آئی اے سمیت امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے صحافی عدنان خاشگجی کے قتل کے سلسلے میں جانچ کے دوران محمد بن سلمان کے فیصلہ سازی کے اختیار سے یہ نتیجہ اخز کیا ہیکہ انکے راست حکم پر یہ قتل واردات انجام دی گئی۔
رپورٹ جاری ہونے کے بعد بائڈن انتظامیہ نے سعودی عرب کے پچہتر باشندوں کے امریکی سفر پر پابندی اور محمد بن سلمان کے ایک نہایت قریبی معتمد میجر جنرل احمد حسن اسیری پر مالی پابندیاں لگادی ہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہیکہ اس بہانے بائڈن حکومت سعودی عرب پر دباؤ بنا کر کچھ کام نکلوانا چاہتی ہو۔

