
منگل کو کولکاتہ میں بی جے پی کی میٹنگ ہوئی اس میں بی جے پی کے بیشتر ارکان اسبلی شامل نہیں ہوئے۔ قومی نائب صدر مکل رائے بھی شہر میں موجود رہنے کے باوجود میٹنگ سے دور رہے بلکہ انکے گھر پر میٹنگ ہوئی جس میں پارٹی کے متعدد ارکان اسبلی شریک ہوئے۔ اشارے واضح ہیں کہ مغربی بنگال بی جے پی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا ہے۔ یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ متعدد ارکان پارٹی چھوڑ کر ٹی ایم سی میں جانا چاہتے ہیں۔

مکل رائے کے علاوہ ایک اور طاقتور لیڈر ہیں راجیب بنرجی وہ بھی بی جے پی سے ناراض چل رہے ہیں۔ وہ ایک زمانے میں ممتا کے نزدیک تھے اور وزیر تھے۔ وہ پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں آئے۔ چناؤ لڑا اور ہارے۔ اب وہ بھی پارٹی میں خود کو ایڈ جسٹ نہیں کر پارہے ہیں۔ راجیب بنرجی نے تو چناؤ نتائج کے بعد ہی ٹی ایم سی کو اشارے دینے شروع کردئے تھے۔ جب بی جے پی کی جانب سے ریاست میں صدر راج لگانے کی باتیں کی گئیں تو انہوں نے کھلم کھلا اسکی مخافت کی۔ اسکے بعد سے وہ بی جے پی کی کسی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے ہیں۔ بی جے پی کے کئی لیڈر بے خوف ممتا بنرجی کی تعریف میں ٹویٹ کررہے ہیں۔ ریاستی حکومت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ تو کبھی بنگال کے سیکولر کردار کی تعریف کررہے ہیں۔ با خبرر ذرائع کا کہنا ہیکہ بی جے پی کے کم از کم 35 ارکان اسمبلی نے بی جے پی چھوڑ کر ٹی ایم سی میں واپسی کا ارادہ کررکھا ہے اور ٹی ایم سی لیڈروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ وہ مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔

مغربی بنگالمیں بی جے پی کے 75 ارکان اسمبلی ہیں۔ دل بدل مخالف قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے کم از کم پچاس ارکان کو ایک گروپ کی شکل میں پارٹی چھوڑنی ہوگی۔ بی جے پی سے ناراض ارکان اسی بات کا انتظار کررہے ہیں۔ مکل رائے گروپ کے لئے پچاس کا عدد پورا کرنا فی الحان آسان نہیں ہے۔ ادھر مکل رائے کی واپسی کے امکانات سے ٹی ایم سی میں اسکی مخالفت شروع ہو گئی ہے۔ بھگوڑوں کی پارٹی میں واپسی سے غلط اشارے جائیں گے۔ سینئر لیڈروں کے چلے جانے کے بعد جن لیڈروں نے پارٹی کی جیت کے لئے خون پسینہ بہایا انکے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ مغربی بنگال میں جلد ہی بلدیاتی چناؤ ہونے والے ہیں۔ ان چناؤ سے پہلے بی جے پی میں پھوٹ پڑنے کا امکان ہے۔(ان پٹ۔ ستیہ ہندی ڈاٹ کام)
