qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

کاروان خلوص  کا جشن یوم تاسیس

امروہا کے تہذیبی ، ادبی اور ثقافتی  سفرکے لئے10 اکتوبر کا دن بہت خاص تھا۔۔ اس دن  ثقافتی ادارے ‘کاروانِ خلوص’ کا 70 واں یومِ تاسیس تھا، جو ادارے کے بانی نواب سید انتقام علی خاں کے یومِ ولادت کے موقع پر نہایت سادگی اور عقیدت سے منایا گیا ا۔ ‘نواب منزل’ میں ملک بھر سے آئے ہوئے نامور شعرا، ادبا، دانشور اور تہذیب کے یکجا تھے۔  یہ نہ صرف کاروان خلوص کی ستر سالہ خدمات کا جشن تھا، بلکہ ان تمام اسلاف اور شعرا کی یاد کو معنون ایک دلکش کتاب ‘عکسِ کارواں’ کا باقاعدہ اجرا بھی تھا۔ ‘عکسِ کارواں’ کے صفحات پر ہمارے بزرگوں کی شکل میں ان تمام چراغوں کی روشنی بکھری ہوئی ہے جنھوں نے اپنی تہذیبی بصیرت سے اس مرکز کے دامن کو مالامال کیا۔

محفل کی صدارت سید محبوب حسین زیدی نے کی، جبکہ نظامت پروفیسر ناشیر نقوی نے سنبھال رکھی تھی۔ وہ اپنے مخصوص اندازِ میں نظامت کررہے تھے۔انہوں نے ‘کاروانِ خلوص’ سے جڑے ان درخشاں ستاروں کا ذکر کیا جن کی روشنی سے آج بھی امروہہ کا نام دنیا بھر میں روشن ہے۔ جون ایلیا کا زیرِ لب تبسم، کیف بھوپالی کی ترنم ریز آواز، کنور مہندر سنگھ بیدی کا شگفتہ انداز، علی سردار جعفری اور کمال امروہی کی فلمی و ادبی عظمت جب یہ نام محفل میں گونجے تو ایسا لگا جیسے وہ سب روحانی طور سے یہیں کہیں موجود ہیں۔\

شہرِ جگر  کی سب سے توانا، جانی پہچانی اور مقبولِ عام آواز نامور ناظمِ محفل منصور عثمانی نے ‘کاروانِ خلوص’ کا تعارف پیش کیا۔ ان کا اندازِ بیاں ایسا دلنشین تھا کہ ہر شخص محسوس کر رہا تھا کہ یہ کاروان صرف ایک ادارہ یا ایک بیٹھک نہیں ہے بلکہ ان کی اپنی تہذیبی میراث اور شناخت کا امین ہے۔

جب ڈاکٹر جاوید نسیمی نے اپنا یہ خوبصورت اور پُرتاثیر قطع سنایا، تو فضا داد و تحسین سے گونج اٹھی

بغض و حسد سے کینہ سے ہاں ماورا ہیں یہ

اس دور میں بھی اہلِ خلوص و وفا ہیں یہ

اس کارواں کے لوگوں کو جاوید کیا کہوں

جی چاہتا ہے کہدوں کہ سب اولیاء ہیں یہ

مہمانِ مقرر پروفیسر الف ناظم نے امروہہ کو ‘تہذیب کا مرکز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کی ہواؤں میں آج بھی اردو زبان اور گنگا جمنی تہذیب کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ کئی سرکردہ صحافی سراج مہدی، شکیل غوث رامپوری اور ڈاکٹر مہتاب امروہوی نے بھی کاروان خلوص کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اسے امروہہ کی تہذیبی روایت کی اصل شناخت قرار دیا۔معروف شاعر اظہر عنایتی اپنے منفرد لہجے اور مخملی آواز کے ساتھ کلام پیش کیا۔وہاں موجود ہر شخص ان کے جادوئی کلام میں کھو گیا۔ سامعین کے مسلسل اصرار پر انہوں نے ایک کے بعد ایک کئی خوبصورت غزلیں پیش کیں۔

اس موقع پر کاروان خلوص کے بانیان حکیم اسلام الحق صابری، جمال نظامی، ڈاکٹر عظیم امروہوی، رئیس نجمی، سرفراز عثمانی، شمیم ہادی، سید محمود جان، وجاہت حسین عابدی، اور مولانا سید محمد عبادت جیسے عظیم ناموں کا ذکر بھی آیا ۔ ان تاریخی شخصیتوں کی علمی خدمات اور محنتوں کے تذکرے نے نہ صرف ماضی کی سنہری یادوں کو تازہ کر دیا، بلکہ ‘کاروانِ خلوص’ کے موجودہ اراکین میں اپنے بزرگوں کے اس علمی و تہذیبی ورثے کو آگے بڑھانے کا ایک نیا عزم پیدا کر دیا۔

تقریب کے اختتام پر مراد علی خان نے تمام مہمانوں، دور دراز سے آئے شعرا اور امروہہ کے معزز افراد کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس یادگار شام میں مولانا ڈاکٹر احسن اختر سروش، ڈاکٹر جاوید نسیمی، نجم خان حسن پوری، حافظ احمد حسین، پرویز نقوی (امریکہ)، ڈاکٹر مصباح احمد صدیقی، پنڈت بھون شرما، سید رضا کمال نقوی، سرتاج منصوری، حاجی خورشید انور، ماسٹر اسلم عثمانی، حبیب احمد صدیقی، شیبان قادری، سید سبط سجاد نقوی، تنویر نقوی، کوثر علی عباسی اور شہر کے دیگر معززین اور ادب دوست احباب موجود رہے۔

Related posts

سعودی عرب میں تبلیغی جماعت پر پابندی لگا دی گئی۔

qaumikhabrein

اسرائیل ماضی کی نسبت اپنی بقا کے لئے آج زیادہ پریشان ہے۔ حزب اللہ سربراہ نصر اللہ کا دعویٰ

qaumikhabrein

سرائیلی جیل فلسطینی قیدیوں کے لئے کربلا بنا دی گئی

qaumikhabrein

Leave a Comment