qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

پروفیسر مریم جمال ہنجانی: کینسر کی تحقیق سے کینسر ریسرچ یو کے کی قیادت تک

برطانیہ کے طبی اور سائنسی حلقوں میں ان دنوں ایک اہم تقرری کا ذکر ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے کینسر انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ پروفیسر مریم جمال ہنجانی کو کینسر ریسرچ یو کے کا نیا چیف کلینیشن مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے 6 اکتوبر کو یہ ذمہ داری سنبھالی اور وہ پروفیسر چارلس سوانٹن کی جگہ لے رہی ہیں، جو 2017 سے، یعنی تقریباً نو برس، اس منصب پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ادارے کے مطابق چیف کلینیشن ادارے کا سینئر کلینیکل تحقیقی مشیر ہوتا ہے، جو طبی تحقیق کی قیادت کے ساتھ ساتھ سائنسی مشورے بھی فراہم کرتا ہے۔ پروفیسر مریم کا علمی سفر خود ایک مثال ہے۔ انہوں نے فزکس اور طب، دونوں مضامین میں اپنی ڈگریاں یو سی ایل سے حاصل کیں اور اس کے بعد لندن ہی میں عمومی طبی تربیت اور آنکولوجی کی تخصیص مکمل کی۔ 2012 میں انہیں کینسر ریسرچ یو کے کی کلینیکل ریسرچ فیلوشپ ملی، جس کی مدد سے انہوں نے کینسر جینیٹکس میں پی ایچ ڈی کی۔ اس دوران ایسوسی ایشن آف کینسر فزیشنز کا میک ایلوین پرائز اور رائل سوسائٹی آف میڈیسن کا سلویا لالر سائنٹیفک پرائز بھی ان کے حصے میں آیا۔ 2016 میں انہیں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ریسرچ کی کلینیکل لیکچرر شپ ملی، اور 2018 میں وہ سینئر کلینیکل لیکچرر اور آنریری کنسلٹنٹ بنیں۔ آج وہ کینسر جینومکس اور میٹاسٹیسس کی پروفیسر ہیں اور پھیپھڑوں کے کینسر کی ماہر معالج کے طور پر مریضوں کا علاج بھی کرتی ہیں۔

ان کی تحقیق کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کینسر وقت کے ساتھ کیسے بدلتا ہے، علاج کے بعد دوبارہ کیوں لوٹ آتا ہے، اور دواؤں کے خلاف مزاحمت کیسے پیدا کر لیتا ہے۔ اس سمت میں ان کا سب سے نمایاں کام ٹریسرایکس (TRACERx) ہے، جو پھیپھڑوں کے کینسر کے ارتقا پر دنیا کی سب سے جامع تحقیقات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد اس خیال پر ہے کہ ایک ہی بایوپسی سے ٹیومر کی پوری تاریخ سمجھ میں نہیں آتی، اس لیے مختلف مقامات سے نمونے لے کر اس کے ارتقائی سفر کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے پیس (PEACE) نامی پروگرام بھی قائم کیا، جس کے تحت وفات کے بعد، مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کی رضامندی سے، ترقی یافتہ کینسر کا مطالعہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مرض جسم میں کس طرح پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پھیپھڑوں کے کینسر سے بچاؤ کی پہلی ویکسین کے انسانی تجربے لنگ ویکس (LungVax) اور مریض کے اپنے مدافعتی خلیوں پر مبنی علاج کے ابتدائی مطالعے چائرون (CHIRON) سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ ساتھیوں کے مطابق وہ اجتماعی تحقیق کی بھرپور حامی ہیں، یعنی ایسے سوالات پر سائنسدانوں اور معالجوں کو ایک ساتھ لانے کی جو کوئی اکیلا تحقیقی گروپ حل نہیں کر سکتا۔

ان کی شخصی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بچپن میں وہ خلا باز بننا چاہتی تھیں اور ان کے گھر میں ریاضی کو ہمیشہ ایک مضبوط پہلو سمجھا جاتا تھا۔ 1970 کی دہائی میں ان کے ایک بھائی کو خون کے سرطان کی تشخیص ہوئی۔ علاج کامیاب رہا، مگر اس نے پورے خاندان کو شدید دباؤ میں ڈالا۔ اسی تجربے نے ان کے دل میں تحقیق کی لگن کو مضبوط کیا۔ یوں ایک گھریلو آزمائش آگے چل کر ہزاروں مریضوں کے لیے امید کی تحقیق میں ڈھل گئی۔

نئے منصب پر ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ادارے کے کلینیکل کام کی سمت متعین کرنے میں مدد کریں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ تحقیق انہی سوالات پر ہو جو مریضوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں، طبی تحقیق کے میدان میں آنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ادارے کی نمائندگی برطانیہ اور بین الاقوامی تحقیقی برادری میں کریں۔ اپنی تقرری پر انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ سائنسی تحقیق جلد از جلد مریضوں کے لیے بہتر نتائج میں بدلے، اور اس سلسلے میں وہ این ایچ ایس کو ایک غیر معمولی اثاثہ سمجھتی ہیں جو تحقیق کو مریضوں سے جوڑنے کی بے مثال صلاحیت رکھتا ہے۔

پروفیسر مریم جمال ہنجانی کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ علم، محنت اور لگن جب خدمتِ خلق کے جذبے سے جڑ جائیں تو ذاتی دکھ بھی انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

Related posts

ایرانی ماہرین نے تیار کیا ہلکا ٹرانسپورٹ طیارہ ۔۔

qaumikhabrein

اسپین کا ٹرمپ کے منھ  پر انکار کا طمانچہ

qaumikhabrein

پاکستان میں بد عنوانی۔پولیس محکمہ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

qaumikhabrein

Leave a Comment