qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

آذربائیجان میں حجاب پر پابندی: سیکولرازم یا مذہبی آزادی پر قدغن؟

مسلمانوں کی غالب اکثریت والے ملک آذربائیجان میں حجاب کا معاملہ تعلیمی اداروں کے اندر ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حجاب کرنے والی معلمات اور طالبات کو اسکولوں میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے والوں میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو خود حجاب نہیں کرتیں۔ بعض شہروں میں طالبات نے، چاہے وہ خود حجاب کرتی ہوں یا نہیں، اپنی باحجاب ہم جماعتوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ کئی نے احتجاجاً کلاسوں میں جانے سے انکار کر دیا اور کچھ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھڑی رہیں۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ مسئلہ محض لباس کا نہیں، بلکہ مذہبی عقائد کے احترام، انسانی وقار اور ضمیر و مذہب کی آزادی کا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 21 ستمبر کو آذربائیجان کی کابینہ نے اسکولوں کے لباس سے متعلق قواعد میں ترامیم کی منظوری دی۔ حکام اسے عمومی تعلیم میں سیکولر پہلو کو مضبوط بنانے کی کوشش کہتے ہیں۔ ان قواعد کے مطابق اسکول کے یونیفارم میں کسی اضافی چیز کا استعمال، یا ایسا لباس جو یکساں یونیفارم سے مطابقت نہ رکھتا ہو یا حکام کی نظر میں تعلیم کے سیکولر اصول کے منافی ہو، ممنوع ہے۔ یہ ترامیم صدر الہام علییف کے اس حکم کے بعد آئیں جس میں سرکاری اسکولوں میں یکساں یونیفارم نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ جس ملک کی تقریباً 96 سے 97 فیصد آبادی خود کو مسلمان کہتی ہے، وہاں یکسانیت کے نام پر ایک دینی شعار کو نشانہ بنانا کس حد تک معقول ہے۔

اس بحث کی بنیاد یہ سوال ہے کہ سیکولر ہونے کا مطلب کیا ہے۔ سیکولرازم کا بنیادی تصور ریاست کی غیر جانبداری ہے، یعنی ریاست نہ کسی مذہب کو دوسروں پر مسلط کرے اور نہ کسی مذہب کو دبائے۔ یہ اصول شہری کو یہ تحفظ دیتا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق جئے یا عقیدے کے بغیر جئے، اور ریاست دونوں صورتوں میں اس کے ساتھ برابری کا سلوک کرے۔ جب ایک سیکولر ریاست کسی بالغ عورت یا کسی طالبہ سے کہتی ہے کہ تعلیم چاہیے تو اپنا مذہبی لباس اتار دو، تو وہ غیر جانبدار نہیں رہتی، بلکہ ایک خاص نظریے کو، جو مذہب سے دوری ہے، شہریوں پر مسلط کر رہی ہوتی ہے۔ ایسا سیکولرازم آزادی کا نہیں، جبر کا نمونہ بن جاتا ہے۔

مسلمان عورت کے لیے حجاب محض ایک ظاہری علامت نہیں، بلکہ دینی احکام پر عمل اور اعتقاد کا حصہ ہے۔ جب اسے یہ پیغام ملتا ہے کہ اس کا لباس سیکولر ریاست کی نظر میں قابلِ قبول نہیں، تو اس کے مذہبی جذبات مجروح ہونا فطری بات ہے۔ یہ احساس صرف باحجاب خواتین تک محدود نہیں رہتا، پورا مذہبی طبقہ خود کو نشانے پر محسوس کرتا ہے۔ ریاست کا کام شہریوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنا ہے، نہ کہ ان میں یہ تاثر پھیلانا کہ ان کی دینی شناخت ان کے تعلیمی مستقبل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

سب سے اہم پہلو حقوق کا ہے۔ جس عورت نے اپنی مرضی سے حجاب کا انتخاب کیا ہو، اس پر پابندی اس کے حقِ انتخاب کی صریح خلاف ورزی ہے۔ جدید دنیا میں عورت کی خودمختاری کے جو دعوے کیے جاتے ہیں، ان کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے جسم اور اپنے لباس کے بارے میں خود فیصلہ کرے۔ اگر کوئی عورت ریاست یا معاشرے کے دباؤ پر حجاب پہننے پر مجبور کی جائے تو اسے جبر کہا جاتا ہے، اور بجا طور پر۔ تو پھر کسی عورت کو ریاستی دباؤ سے حجاب اتارنے پر مجبور کرنا جبر کیوں نہیں؟ جبر کی سمت بدل جانے سے اس کی نوعیت نہیں بدل جاتی۔

یہی وجہ ہے کہ خواتین کے حقوق کی تنظیموں سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اسکولوں میں باحجاب معلمات اور طالبات کے داخلے پر پابندی کے معاملے میں ان کا موقف کیا ہے۔ اگر یہ تنظیمیں عورت کے حقِ انتخاب کی علمبردار ہیں تو یہ حق اس عورت کو بھی حاصل ہے جو حجاب کا انتخاب کرتی ہے۔ ان کی خاموشی یا مبہم موقف اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ ان کی حمایت مشروط ہے اور صرف اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب عورت کا انتخاب ایک مخصوص تصورِ آزادی کے مطابق ہو۔ حقوق کا اصول سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے، یا پھر وہ اصول نہیں رہتا۔

پھر تعلیم کا حق ہے، جو ہر بچی کا بنیادی حق ہے اور جسے بین الاقوامی معاہدے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اسکول کا یونیفارم نظم و ضبط اور مساوات کے لیے ہوتا ہے، اسے کسی بچی کو تعلیم سے محروم کرنے کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔ جب ایک طالبہ کو اس لیے کلاس سے باہر رکھا جائے کہ اس کے سر پر کپڑا ہے، تو نقصان صرف اس کا نہیں ہوتا، پورے معاشرے کا ہوتا ہے جو ایک پڑھی لکھی لڑکی سے محروم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح باحجاب معلمات کو ملازمت سے روکنا ان کے روزگار کے حق پر بھی حملہ ہے۔

حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ تعلیمی نظام کا سیکولر رہنا اور یکساں یونیفارم کا نفاذ ضروری ہے۔ اس مؤقف کے حامی کہتے ہیں کہ آذربائیجان کی سوویت وراثت، اس کی کثیر مسلکی اور کثیر نسلی ساخت، اور بیرونی مذہبی اثرات کا خدشہ ریاست کو احتیاط پر مجبور کرتا ہے، اور اسکول کو مذہبی تفریق سے پاک رکھنا طلبہ میں برابری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ یہ دلیل بھی قابلِ غور ہے کہ بعض ممالک، جیسے فرانس، اسکولوں میں نمایاں مذہبی علامات پر پابندی رکھتے ہیں۔ مگر ناقدین کا جواب یہ ہے کہ فرانس جیسی مثالیں خود شدید تنقید کی زد میں رہی ہیں، اور آذربائیجان میں معاملہ اس لیے زیادہ حساس ہے کہ پابندی اس اکثریت پر لگ رہی ہے جس کا یہ دین ہے، نہ کہ کسی اقلیتی علامت کے مقابل اکثریتی شناخت کے تحفظ کے لیے۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ یکسانیت کا مقصد اگر مساوات ہے تو اسے حاصل کرنے کے لیے ایسے طریقے کیوں نہ اپنائے جائیں جو کسی کا عقیدہ مجروح نہ کریں، مثلاً یونیفارم کے رنگ اور وضع کے مطابق سر ڈھانپنے کی اجازت۔

آخر میں بات وہیں آتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ سیکولر ریاست کی اصل کسوٹی یہ ہے کہ وہ ہر شہری کے عقیدے اور ضمیر کی آزادی کی ضامن ہو۔ اگر سیکولرازم کے نام پر ایک بچی کو تعلیم اور ایک معلمہ کو روزگار سے اس لیے محروم کیا جائے کہ وہ اپنے دین پر عمل کرنا چاہتی ہے، تو یہ سیکولرازم نہیں بلکہ ایک نظریاتی سختی ہے۔ آذربائیجان کی حکومت کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ ان پابندیوں پر نظرِ ثانی کرے، طالبات اور اساتذہ کے ساتھ مکالمہ کرے، اور ایسا حل نکالے جس میں یکسانیت اور مذہبی آزادی دونوں کا احترام ہو۔

Related posts

دلت،برہمن،مسلمان اور بی ایس پی۔تحریر سراج نقوی

qaumikhabrein

لکھنے پڑھنے لائق نہیں رہا سلمان رشدی

qaumikhabrein

روس نے سونامی پیداکرکےملک کوتباہ کرنے والا جوہری بم بنا لیا

qaumikhabrein

Leave a Comment