qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اسرائیل  نےغزہ میں الجزیرہ کے پورے عملےکو ہلاک کرڈالا

غزہ شہر میں الجزیرہ کے پورے عملے کو اسرائیل نے قتل کر دیا ہے، جس میں رپورٹر اور کیمرہ مین بھی شامل ہیں۔تازہ حملہ نصیرات میں العودہ اسپتال کے قریب صحافیوں کے خیمے پرکیا گیا۔اسرائل خاص طور سے صحافیوں کو نشانہ بناتا رہا ہے جو غزہ کے حالات سے دنیا کو واقف کراتے ہیں۔غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ صحافیوں کے لیے بھی تباہ کن نتائج برآمد کیے ہیں۔ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اپنے چار صحافیوں—انس الشریف، محمد قریقع، ابراہیم الظاہر، اور محمد نوفل—کی شہادت کی تصدیق کی ہے، جو نصیرات میں العودہ اسپتال کے قریب صحافیوں کے خیمے پر اسرائیلی فوج کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ غزہ میں صحافیوں کے لیے خطرناک حالات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ جنگ کی کوریج کے دوران مسلسل خطرات کا شکار ہیں۔

مختلف ذرائع کے مطابق، غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ فلسطینی میڈیا آفس اور دیگر رپورٹس کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 232 صحافی اور میڈیا ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد دوسری رپورٹس میں مختلف ہو سکتی ہے، جیسے کہ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے 2024 کے آخر تک 54 صحافیوں کی ہلاکتوں کی نشاندہی کی، جن میں سے ایک تہائی کا تعلق غزہ سے تھا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی جے پی) نے بھی 27 نومبر 2023 تک 57 صحافیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی، جن میں 50 فلسطینی، 4 اسرائیلی، اور 3 لبنانی شامل تھے۔ ان اعداد و شمار میں تفاوت کی وجہ مختلف اداروں کے ڈیٹا جمع کرنے کے طریقہ کار اور وقت کے فرق سے ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ بات واضح ہے کہ غزہ صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں سے ایک بن چکا ہے۔

صحافیوں کی یہ ہلاکتیں نہ صرف انسانی المیہ ہیں بلکہ صحافتی آزادی اور جنگ کے دوران حقائق کی رپورٹنگ کے حق پر بھی حملہ ہیں۔ الجزیرہ نے اسے “صحافیوں کی ٹارگٹڈ ایساسینیشن” قرار دیا ہے، جبکہ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے اسرائیلی فوج کی جانب سے صحافیوں کے خلاف “جنگی جرائم” کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بناتے، لیکن متعدد واقعات—جیسے کہ نصیرات میں العودہ اسپتال کے قریب خیمے پر حملہ—اس دعوے پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

غزہ میں صحافیوں کو نہ صرف بمباری کا خطرہ ہے بلکہ مواصلات کی بندش، بجلی کی کمی، اور دیگر لاجسٹک مسائل بھی ان کے کام کو مشکل بنا رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے مقامی فلسطینی صحافیوں نے جنگ کی کوریج میں بے مثال کردار ادا کیا ہے، لیکن  انہیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں نے صحافیوں کی ہلاکتوں اور میڈیا پر پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے، اور عالمی سطح پر اس صورتحال کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ آزاد صحافت کے حق کی حفاظت کرے۔ غزہ میں صحافیوں کی مسلسل ہلاکتیں ایک ایسی حقیقت ہیں جو جنگ کے دوران معلومات کے حق کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

Related posts

رثائی ادب کا بڑا نقصان۔شمیم امرہوی کا انتقال۔

qaumikhabrein

اہل بیت سے محبت کے زبانی دعوے کافی نہیں۔ مولانا اصغر اعجاز قائمی۔

qaumikhabrein

شامی زلزلہ زدگان کے ساتھ مغرب اور عرب دنیا کا دوہرا معیار

qaumikhabrein

Leave a Comment