
اسرائل نے غزہ کے ان تمام شعبوں کو تباہ کیا جو انسانی زندگی کے لئے کسی بھی صورت میں کارآمد تھے۔بجلی ہو کہ پانی، اسپتال ہوں کہ اسکول ثقافتی ادارے ہوں یا تحقیقی مراکزمویشی ہوں یا کھیتی باڑی اسرئیل نے جان بوجھ کر ان مقامات کو نشانہ بنایا جو غزہ والوں کے لئے ضروری اور اہم تھے۔ کھیتی باڑی کی زمین کو تباہ کرنا بھی اسرائل کے خوفناک انسان دشمن مشن میں شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے (ایف اے او) نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران غزہ پٹی میں زراعت کو تباہ کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق غزہ کی95 فیصڈ زمین کاشت کاری کے لائق نہیں رہ گئی ہے۔ایف اے او نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ مارچ کے تجزیے کے مطابق، جنگ کے نتیجے میں غزہ کی صرف 4.6 فیصد زمین ہی زراعت کے قابل رہ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق زرعی زمین کی کمی کی وجہ سے کسانوں نے عارضی پلاٹوں پر، خیموں کے درمیان یا تباہ شدہ گھروں کے ملبے پر زراعت کرنا شروع کی ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو صیہونی رژیم نے غزہ پٹی کے خلاف دو اہم مقاصد، حماس تحریک کو ختم کرنے اور صیہونی قیدیوں کو واپس لانے کے ساتھ جنگ شروع کی، لیکن وہ ان مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا اور بالآخر حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر رضامندی کے لیے مجبور ہو گیا۔
19 جنوری 2025 کو حماس اور صیہونی رژیم کے درمیان معاہدے کے تحت غزہ پٹی میں جنگ بندی نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت متعدد قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا۔ تاہم، بعد میں صیہونی رژیم نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی بات چیت میں حصہ لینے سے انکار کر دیا اور 18 مارچ 2025 کو جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پٹی پر اپنے فوجی حملے دوبارہ شروع کر دیے۔جن میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی میزائل ان لوگوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جو پانی لینے کے لئے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔۔
