qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

فرانس اور ہندستان میں احتجاج کے مشترکہ پہلو۔

فرانس اور ہندستان تاریخ، سیاسی نظام اور سماجی ساخت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت مختلف ملک ہیں، مگر اکتوبر 2026 میں دونوں کی سڑکوں پر جو مناظر نظر آ رہے ہیں ان میں حیرت انگیز مماثلتیں ہیں۔ دونوں جگہ نوجوان صفِ اول میں ہیں، دونوں جگہ احتجاج کی جڑ اداروں پر اعتماد کے بحران میں ہے، دونوں جگہ بڑی تعداد میں شہری باہر نکلے ہیں، اور دونوں جگہ ریاست کے ردِعمل پر سخت بحث جاری ہے۔

فرانس میں تحریک کی ابتدا ہائی اسکول کے طلبہ نے کی۔ ان کی شکایات اساتذہ کی غیر حاضری، بھری ہوئی کلاسوں اور پرانی سہولیات سے متعلق تھیں، لیکن چند ہفتوں میں یہ تحریک مہنگائی اور سرکاری خدمات کے زوال کے خلاف قومی احتجاج میں بدل گئی۔ سترہ اکتوبر کو وزیرِ داخلہ کے مطابق پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ سڑکوں پر آئے۔ زیادہ تر مظاہرے پُرامن رہے، مگر ان کے کناروں پر آتشزدگی، لوٹ مار اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ حکام کے مطابق اب تک ہزاروں افراد گرفتار ہوئے ہیں جن میں اکثریت نابالغوں کی ہے، اور سینکڑوں پولیس اہلکار، طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوئے ہیں۔

ہندستان میں اس وقت احتجاج کا مرکز ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی ہے جسے ایس آئی آر کہا جاتا ہے۔ نوجوانوں پر مشتمل کاکروچ جنتا پارٹی نے، جس کی تحریک مئی 2026 میں شروع ہوئی اور جس کے جولائی کے احتجاج کے بعد وزیرِ تعلیم کو مستعفی ہونا پڑا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور فہرستوں کی آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس عمل میں تقریباً 13 کروڑ نام فہرستوں سے نکالے گئے۔ مزید یہ کہ اخباری تحقیق کے مطابق دو الیکشن کمشنروں نے دس ماہ میں کم از کم 14 بار اس عمل پر اعتراضات اٹھائے۔ دو اکتوبر سے ملک گیر مظاہرے شروع ہوئے، چھ اکتوبر کو اپوزیشن کے ارکانِ پارلیمنٹ نے، جن کی تعداد اپوزیشن کے بقول 237 تھی، الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کیا، اور دس اکتوبر کو دہلی میں سب سے بڑی ریلی کی کوشش ہوئی۔

دونوں تحریکوں کا پہلا مشترکہ پہلو نوجوانوں کا کردار ہے۔ فرانس میں اسکول کے طلبہ اس تحریک کی بنیاد ہیں، جبکہ ہندستان میں نوجوانوں کی جماعت اور طلبہ تنظیمیں، جیسے Aisa Sfi NSUI، اس کی قیادت میں شامل ہیں۔ دونوں جگہ ان نوجوانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے مستقبل کے فیصلے ان سے پوچھے بغیر ہو رہے ہیں، چاہے وہ تعلیم پر خرچ ہو یا روزگار اور امتحانات کی شفافیت۔

دوسرا مشترکہ پہلو اداروں پر اعتماد کا سوال ہے۔ فرانس میں یہ اعتماد تعلیم اور عوامی خدمات کے معیار سے جڑا ہے، اورہندستان میں انتخابی نظام کی غیر جانبداری سے۔ دونوں صورتوں میں ابتدائی مطالبہ محدود تھا، مگر جب شہریوں کو محسوس ہوا کہ ان کی شکایت سنی نہیں جا رہی تو دائرہ بڑھتا گیا۔ تیسرا مشترکہ پہلو سیاسی وقت ہے۔ فرانس میں اگلے سال صدارتی انتخاب ہے اور وزیراعظم نے تشدد کو اس کی تیاری قرار دیا ہے، جبکہ ہندستان میں انتخابی فہرستوں کا مسئلہ براہِ راست آنے والے انتخابات سے جڑا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس تحریک کا حصہ بن گئی ہیں۔ دونوں ملکوں میں حکومتیں احتجاج کو کسی حد تک سیاسی محرکات کا نتیجہ بتاتی ہیں، اور مظاہرین اسے اپنے جائز مطالبات کا اظہار کہتے ہیں۔

عوامی شرکت کے حوالے سے دیکھیں تو دونوں جگہ تحریک کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہی۔ فرانس میں طلبہ کے ساتھ اساتذہ، والدین اور مہنگائی سے پریشان شہری شامل ہوئے۔ہندستان میں طلبہ، کسان، دلت تنظیموں کے ارکان، وکلا، صحافی، اپوزیشن رہنما اور عام شہری مختلف شہروں میں سڑکوں پر آئے، اور بنگلور جیسے شہروں میں شہری تنظیموں نے کئی گھنٹے کے دھرنے دیے۔

دونوں ملکوں میں ریاستی ردِعمل بھی بھاری پولیس تعیناتی، رکاوٹوں، آنسو گیس اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی صورت میں سامنے آیا۔ فرانس میں پولیس تشدد کے الزامات پر 36 تحقیقات شروع ہوئیں۔ ہندستان میں دس اکتوبر کو دہلی میں کم از کم 7,000 افراد حراست میں لیے گئے اور رپورٹوں کے مطابق ملک بھر میں اس سے پہلے ہی 10,000 سے زیادہ لوگ روکے گئے۔ ایک عالمی تنظیم نے جولائی کے مظاہروں میں غیر قانونی طاقت کے استعمال اور احتساب کی کمی کی نشاندہی کی، اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ترجمان نے بڑے پیمانے پر حراستوں پر تشویش ظاہر کی۔ دونوں جگہ عدالتی یا نگران ادارے بھی متحرک ہوئے۔ فرانس میں پولیس کی نگرانی کا ادارہ شکایات کی چھان بین کر رہا ہے، اورہندستان میں سپریم کورٹ نے 11 اکتوبر کو عبوری حکم میں کہا کہ پُرامن احتجاج کرنے والوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہ لیا جائے اور میٹرو، ریل اور انٹرنیٹ معمول کے مطابق چلتے رہیں۔

اس کے باوجود دونوں احتجاجوں میں بنیادی فرق بھی ہیں۔ پہلا فرق تشدد کی نوعیت کا ہے۔ فرانس میں مظاہرین کے ایک حصے نے آتشزدگی، توڑ پھوڑ اور پولیس پر حملے کیے، جس کی حکومت نے شدید مذمت کی۔جبکہ ہندستان میں اب تک کی رپورٹوں کے مطابق احتجاج زیادہ تر پُرامن رہا، اور بحث کا مرکز مظاہرین کا تشدد نہیں بلکہ احتجاج کو کچلنے کی پولیس کی کاروائی ہےہندستان میں احٹجاج کرنے والے پر امن طریقے سے احٹجاج کر رہے ہیں لیکن پولیس انکے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہے۔ احتجاجیوں کو بڑ؁ پیمانے پر گردتار کیا جارہا ہے۔ احتجاجی تحڑیک کو کچلنے کے لئے حکومت طاقت کا ہر حربہ استعمال کررہی ہے۔

Related posts

اسرائیل کے تئیں بنگلہ دیش کا نرم ہوتا رویہ۔ بنگلہ دیشی پاسپورٹ اب اسرائیل کے سفر کے لئے بھی جائز۔

qaumikhabrein

اسرائیل ماضی کی نسبت اپنی بقا کے لئے آج زیادہ پریشان ہے۔ حزب اللہ سربراہ نصر اللہ کا دعویٰ

qaumikhabrein

فاطمہ ذکریہ سپرد لحد۔۔نم ٓآنکھوں کے ساتھ لوگوں نے کہا الوداع۔

qaumikhabrein

Leave a Comment