
ارب پتی ایلون مسک اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیچ کی لڑائی ایک دلچسپ موڑ پر آگئی ہے۔ مسک نےامریکہ پارٹی بنا لی ہے۔ اب وہ ٹرمپ کو سیاست کے میدان میں چنوتی دینے کی تیاری کررہے ہیں۔مسک ٹرمپ کے بجٹ قانون سے بہت نالاں ہیں۔۔س بل کو ایوان نمائندگان سے منظوری مل چکی ہے۔ اس لڑائی کے دوران امریکی صدر ایلون مسک کو امریکہ بدر کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔مسک کا کہنا ہیکہ متنازعہ قانون امریکہ کو برباد کرکے رکھ دیگا۔صدر ٹرمپ کے ساتھ زبانی جنگ کے دوران مسک کی ٹیسلا کی عالمی فروخت میں کمی آئی ہے۔

ایلون مسک نے یہ پارٹی ایک عوامی سروے کے بعد بنائی ہے۔ جس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا جواب دہندگان “دو جماعتی (کچھ کے نزدیک یک جماعتی) نظام سے آزادی” چاہتے ہیں جو گزشتہ دو صدیوں سے امریکی سیاست پر غالب ہے۔ اس ہاں یا ناں کے سروے کو 12 لاکھ سے زائد جوابات ملے۔مسک کا دعوی ہیکہ ، امریکہ پارٹیامریکی عوام کو موجودہ ایک پارٹی نظام سے آزادی واپس دینے کے لیے قائم کی گئی ہے۔”
مسک 2024 کے انتخابات کے دوران ٹرمپ کے مرکزی مالی حامی تھے اور صدر کے دوسرے دور میں محکمہ حکومتی کارکردگی کے سربراہ رہے، جس کا مقصد حکومتی اخراجات کو کم کرنا تھا۔ دونوں کے درمیان “بگ، بیوٹیفل بل” پر اختلافات کی وجہ سے زبردست جھگڑا ہوا۔
مسک نے کہاہیکہ “ٹرمپ اگلے سال اپنی پرائمری ہار جائیں گے، چاہے یہ انکی زندگی کا آخری کام ہو۔”

ٹرمپ نے اس ہفتے کے شروع میں دھمکی دی تھی کہ وہ مسک کی کمپنیوں کو ملنے والی اربوں ڈالر کی سبسڈیز ختم کر دیں گے اور جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے اس ٹائیکون کو، جو 2002 سے امریکی شہری ہے، ملک بدر کر دیں گے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ نئی جماعت کا 2026 کے وسط مدتی انتخابات یا اس کے دو سال بعد صدارتی انتخابات پر کتنا اثر پڑے گا۔مسک نے کمزور ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں کو ہدف بنانے اور جماعت کو کلیدی قانون سازی پر “فیصلہ کن ووٹ” بنانے کا سیاسی منصوبہ بیان کیا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستیں ہر دو سال بعد انتخاب کے لیے کھلی ہوتی ہیں، جبکہ سینیٹ کے 100 اراکین میں سے تقریباً ایک تہائی، جو چھ سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں، ہر دو سال بعد منتخب ہوتے ہیں۔
مسک کی گہری جیب کے باوجود، ریپبلکن-ڈیموکریٹک دو جماعتی نظام کو توڑنا ایک مشکل کام ہے، کیونکہ یہ 160 سال سے زائد عرصے سے امریکی سیاسی زندگی پر غالب ہے۔
