
اجے سحاب کے ایک شعر کا پہلا مصرعہ ہے،”جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن“ یہ ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اور اس کے لشکری آجکل اس مصرعہ کا عملی نمونہ بنے ہوئے ہیں۔
2مئی یعنی جس روز مغربی بنگال سمیت ملک کی پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج سامنے آرہے تھے، اور بی جے پی کو اپنے سیاسی خوابوں کے محل منہدم ہوتے نظر آرہے تھے،اس روز بھی ہمارے میڈیا کو
مرکزی حکومت کی طرف سے قائمexpert appraisal committeeکی طرف سے یہ خبر دی جا رہی تھی کہ کمیٹی نے سنٹرل وسٹامنصوبے کو ماحولیاتی آلودگی سمیت دیگر معاملات میں کلیئرنس دے دی ہے۔واضح رہے کہ یہ منصوبہ مودی حکومت نے تیار کیا ہے اور اس کے تحت موجودہ پارلیمنٹ ہاؤس،وزیر اعظم و نائب صدر جمہوریہ کی سرکاری رہائش گاہ سمیت کئی اہم سرکاری دفاتر کو مجوزہ عمارت میں منتقل کیا جائیگا۔ہمیں کسی حکمراں کی سنگ دلی اور بے حسی پر اس وقت کوئی تبصرہ نہیں کرنا۔ہمیں مجوزہ عمارت کی ضرورت کے جواز پر بھی کچھ نہیں کہنا، لیکن مسلسل پامال ہو رہی جمہوری قدروں کے باوجود یہ سوال کرنا ہر شہری کا فرض بھی ہے اور جمہوری ذمہ داری بھی کہ آخر ایک ایسے وقت میں کہ جب سپریم کورٹ اور کئی ریاستوں کے ہائی کورٹ بار بار حکومت سے کورونا سے نمٹنے کے لیے زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے اور فوری اقدامات کے لیے کہہ رہے ہیں۔ہر روز حکومت کی سرزنش کی جارہی ہے تو ایسے میں وہ کیا اسباب ہیں کہ جن کے تحت مذکورہ پروجیکٹ میں وزیر اعظم کی مجوزہ رہائش گاہ کو آئیندہ برس تک مکمل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔کیا وزیر اعظم کی رہائشی ضروریات یا شوق کو کورونا سے پیدا حالات اور ضروریات پر بالواسطہ ترجیح دینا عوام کے مسائل کے تعلق سے حکمرانوں کی بے حسی اور سنگ دلی کا ثبوت نہیں ہے؟

واضح رہے کہ پروجیکٹ سے وابستہ ذمہ داروں سے کہا گیا ہے کہ وہ آئیندہ برس دسمبر تک وزیر اعظم اوراس سے پہلے مئی تک نائب صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ کو مکمل کردیں۔جبکہ پورے منصوبے کو دسمبر سن 2026تک مکمل کرنا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ پروجیکٹ کو روکنے کے لیے مفاد عامہ کے تحت ایک عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔عرضی گذار وں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ کووڈ کے بڑھتے قہر کے پیش نظرسنٹرل وسٹا پر وجیکٹ پر جاری کام کو فوراً روک دیا جائے۔عرضی گذاروں کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ میں کام کرنے والے مزدوروں کے کورونا سے متاثر ہونے کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔حکومت نے اس پروجیکٹ کو ’لازمی خدمات‘کے زمرے میں رکھا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی بھی ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ اس عرضی پر آئیندہ بدھ کے روز سماعت کریگا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وزیر اعظم مودی کو بذات خود اس زیر تعمیر محل یا رہائش گاہ میں منتقل ہونے کی جلدی ہے یا پھر ان کے حاشیہ برداروں کا ٹولہ ان پر اس بات کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے کہ ظل الہی آئیندہ پارلیمانی الیکشن سے قبل اس قصر شاہی میں منتقل ہو جائیں،لیکن غربت،افلاس اور کورونا کا قہر جھیل رہے ملک کے ایک سو تیس کروڑ عوام کے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے تعلق سے موجودہ حالات میں ایسی خبریں افسوسناک بھی ہیں اور شرمناک بھی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حالات کے مد نظر اس پروجیکٹ پرہو رہے کام کو روک کراس کے لیے مختص رقم کو انسداد کورونا سے متعلق منصوبوں میں لگایا جاتا،لیکن ایسا کرنے کے لیے جس دردمند دل کی ضرورت ہوتی ہے اس کا ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں میں عام طور پر فقدان ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ خود وزیر اعظم میں انسانی دردمندی کا یہ جذبہ سیاسی مفادات کا پابند نظر آتا ہے۔کم از کم مغربی بنگال کے گورنر کو کیے گئے وزیر اعظم کے فون اور بی جے پی ورکروں پر ہوئے مبینہ تشدد پر فکرمندی سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔

بنگال میں انتخابی نتائج آنے کے بعد ہوئے پر تشدد واقعات کے تعلق سے وزیر اعظم فکرمند ہیں،ایسا ہونا بھی چاہیے،لیکن یہ فکر مندی اور دردمندی اگر صرف بی جے پی کارکنوں پر ہو رہے مبیّنہ تشدد کے تعلق سے ہے تو یہ ایک سو تیس کروڑ کی آبادی والے ملک کے وزیر اعظم کے وقار کے منافی ہے۔ وزیر اعظم کو یاد دلانا ضروری ہے کہ مغربی بنگال کی انتخابی مہم کے دوران اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”دو مئی کے بعد ٹی ایم سی کے غنڈے زندگی کی بھیک مانگیں گے۔“دھمکیوں کی یہ زبان ایک بڑی ریاست کے وزیر اعلیٰ کی زبان نہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم سمیت کسی بی جے پی لیڈرنے ٹی ایم سی کارکنوں کو دی جا رہی اس دھمکی پر اپنی پارٹی کے ایک بڑے لیڈر کی زبان کو لگام دینے کی کوشش نہیں کی۔سیاست میں تشدد کو روا کرنے کی اس حکمت علی کو پروان چڑھانے کے لیے کون ذمہ دارہے یہ بحث اس وقت بے معنی ہے،لیکن اس کے کتنے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اس کا احسا س کم از کم بی جے پی قیادت کو اب تو کر لینا چاہیے۔ اس لیے کہ اقتدار ہمیشہ نہ کسی کے پاس رہا ہے اور نہ رہیگا۔جو دھمکی بھری زبان آپ اپنے سے کمزور لوگوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں وہی غیر شائستہ اور غیر قانونی زبان جب آپ سے طاقتور آپ کے خلاف استعمال کرتا ہے تو حق بجانب ہوتے ہوئے بھی آپ شکایت کا اخلاقی حق کھو دیتے ہیں۔

اتر پردیش میں ہوئے پنچایتی انتخابات کا واضح پیغام یہ ہے کہ یہاں بھی بی جے پی کی سیاسی زمین تنگ ہو رہی ہے۔کاشی متھرا اور ایودھیا تک میں بی جے پی کے حمایت یافتہ امیدواروں کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا ہے۔ایسے میں پارٹی اور اس کے لیڈروں کو طاقت کے زعم سے بچتے ہوئے اپنی زبان اور عمل دونوں کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے، ورنہ مغربی بنگال کے نتائج آئیندہ سال اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بھی دوہرائے جا سکتے ہیں، اور بی جے پی کے تمام سرکاری وغیر سرکاری لشکری بھی اسے روکنے میں اسی طرح ناکام ہو سکتے ہیں جس طرح مغربی بنگال میں ہو گئے۔یہ حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف وزیر اعلیٰ کے ذریعہ ایک کووڈ اسپتال کے افتتاح کی خبر نمایاں طور پر شائع ہوتی ہے لیکن دوسری طرف آکسیجن کی کمی،طبّی سہولتوں کے فقدان یا کورونا مریضوں کے مسائل سے متعلق خبریں شائع کرنے سے میڈیا کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔کیا ریاست کے عوام اس بات کو بھلا سکتے ہیں کہ ان کی طبّی امداد کے معاملے میں کس حد تک مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے،جبکہ گایوں کے لیے 700ہیلپ ڈیسک شروع کرنے،آکسی میٹر اور تھرمل اسکریننگ کا گو شالاؤں میں انتظام کرنے کا حکم ریاستی حکومت نے دیا ہے۔
۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کر ونا سے مرنے والوں کی تعداد روزنئی ریکارڈ سطح پر پہنچ رہی ہے۔مریض آکسیجن اور دیگر طبّی سہولیات کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے مجبور ہیں،ان تمام حالات کے لیے ملک کی مختلف عدالتیں جن میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے حکومت کی بار بار سرزنش کر رہے ہیں،لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکمرانوں کی بے درد سماعتیں صرف اپنی جے جے کار سننے کی عادی ہو چکی ہیں۔اسی لیے کورونا کے معاملے پر جذباتی نہ ہونے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔جذبات سے عاری قیادت سے آپ اس سے زیادہ اور توقع کیا کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام حالات کے خلاف جمہوری طریقوں سے لڑنا ہر شہری کا فرض ہے اور اس کے لیے کمر کسنے کی ضرورت ہے۔بہرحال ڈاکٹر بشیر بدر کے ایک شعر کو صاحبان اقتدار کی نذر کرنے کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں۔
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
sirajnaqvi08@gmail.com Mobile:09811602330

