
بڑی طاقتیں ایران کو پابندیوں کی دھمکیاں دے رہی ہیں اور ایران مختلف شعبوں میں اپنی ترقی اور پیش قدمی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب ایران دنیا میں جرمنی کے بعد دوسرا ملک بن گیا ہے جس نے کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کی دوا تیار کرکے بازار میں اتار دی ہے۔ایران نے امریکہ اور یورپ کی رکاوٹوں کے باوجود کینسر کی دوا وینورلبین کو مقامی سطح پر تیار کرکے طبی خودکفالت کی جانب اہم پیشقدمی کرلی۔

ذرائع کے مطابق، ایران کی ایک فارماسیوٹیکل کمپنی ‘سانا فارمد’ نے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی جدید دوا ‘وینورلبین’ کو مقامی طور پر تیار کرکے مارکیٹ میں متعارف کرا دیا ہے۔ اس دوا کو “سانارلبین” کے برانڈ کے تحت پیش کیا گیا ہے، جو اب ملک کے مخصوص دواخانوں میں دستیاب ہے۔

کمپنی کے سی ای او سامان پورضیا کے مطابق، ‘وینورلبین’ کی تیاری میں تین سال سے زائد عرصہ لگا اور اس کے لیے ایک خصوصی پیداواری لائن قائم کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ کینسر کی دوا کی سالانہ درآمد پر پانچ ملین ڈالر خرچ ہوتے تھے، لیکن اب مقامی طور پر اس دوا کی تیاری کے باعث زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نئی دوا کے بارے میں ڈاکٹروں اور مریضوں کی آراء حوصلہ افزا ہیں۔ کمپنی کا ہدف یہ ہے کہ جان بچانے والی ادویات تک ہر فرد کی آسان رسائی ممکن بنائی جائے اور علاج کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جائے۔

