qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

ایران۔ جنگ کے سائے میں ڈرون کی تیاری میں تین گنا اضافہ

ایک نیا عسکری منظرنامہ

ایرانی دفاعی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران ملک میں بغیر پائلٹ کے طیاروں (UAV) کی پیداوار تین گنا ہو گئی۔ اگر یہ دعویٰ درست مانا جائے تو یہ محض ایک صنعتی کامیابی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ جدید جنگ کی نوعیت اور طاقت کے توازن میں کیسی بنیادی تبدیلی آ رہی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ان اعداد و شمار کا بڑا حصہ ایرانی سرکاری ذرائع اور سرکاری ٹیلی ویژن کی نشریات سے آیا ہے، جن کی آزادانہ تصدیق فی الحال دستیاب نہیں۔

زیرِ زمین کارخانے: فضائی حملوں کا جواب

اس خبر کا سب سے نمایاں پہلو وہ سرنگی نیٹ ورک اور زیرِ زمین اسمبلی لائنیں ہیں جو ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے نشر کیں۔ فوج کے کمانڈر انچیف امیر حاتمی کے دورے کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ڈرون اور میزائل بنانے کی تنصیبات کو پہاڑوں اور زمین کی گہرائیوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس حکمتِ عملی کا مقصد صاف ہے: فضائی بمباری سے پیداواری صلاحیت کو محفوظ رکھنا۔ تاریخ میں بھی جنگ زدہ ممالک نے صنعتوں کو زیرِ زمین منتقل کیا ہے، مگر ایران نے اسے اپنی مستقل دفاعی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے۔ جب کارخانے زمین کے نیچے ہوں تو انہیں تباہ کرنا مہنگا، مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔

پیداواری صلاحیت میں اضافہ

قائم مقام وزیرِ دفاع مجید ابنُ الرضا کے مطابق خودکش اور حملہ آور ڈرونز کی پیداواری صلاحیت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ جنگ سے قبل کے تخمینوں میں ماہانہ دس ہزار یونٹ کے لگ بھگ پیداوار کا ذکر ملتا ہے۔ ڈرون اس لیے بھی پرکشش ہتھیار ہیں کہ یہ نسبتاً سستے ہیں، انبوہ (swarm) کی صورت میں استعمال ہو سکتے ہیں، اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مہنگے دفاعی میزائل داغنے پڑتے ہیں۔ یوں لاگت کا توازن حملہ آور کے حق میں جھک جاتا ہے۔

تکنیکی پیش رفت کے دعوے

حالیہ نمائشوں میں “آرش” حملہ آور ڈرون کی پروڈکشن لائن دکھائی گئی۔ ایرانی دعووں کے مطابق:

  • نئے ماڈلوں میں وار ہیڈ کا وزن بڑھایا گیا ہے
  • مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہدف کی درستی بہتر کی گئی ہے
  • جیٹ انجن سے چلنے والی نئی اقسام متعارف کرائی گئی ہیں

جیٹ انجن کا مطلب زیادہ رفتار ہے، جس سے ڈرونز کو روکنا اور بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ تاہم ان دعووں کی عسکری ماہرین کی جانب سے آزادانہ جانچ ابھی باقی ہے، اور سرکاری نمائشوں میں مبالغہ آرائی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

ادارہ جاتی ڈھانچہ

ایران کی ڈرون صنعت کئی سرکاری اداروں پر قائم ہے:

  • شاہد ایوی ایشن انڈسٹریز: شاہد سیریز کے ڈرون
  • ہیسا (HESA): ابابیل سیریز
  • قدس ایوی ایشن انڈسٹریز: مہاجر اور آرش سیریز

یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی وقتی کوشش نہیں بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی سے تعمیر کیا گیا صنعتی ڈھانچہ ہے، جو پابندیوں کے باوجود مقامی صلاحیت پر انحصار کرتا ہے۔

وسیع تر مضمرات

اس پیش رفت کے کئی پہلو قابلِ غور ہیں۔ اول، یہ اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ پابندیاں اور جنگی دباؤ بعض اوقات ملکوں کو خودکفالت کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ دوم، ڈرون ٹیکنالوجی کی ارزانی اسے نسبتاً کم وسائل رکھنے والی ریاستوں اور غیر ریاستی عناصر کے لیے بھی قابلِ رسائی بنا رہی ہے، جس سے خطے کی سلامتی کے خدشات بڑھتے ہیں۔ سوم، مغربی اور اسرائیلی دفاعی نظاموں کو اب سستے اور بڑی تعداد میں آنے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے نئی حکمتِ عملی وضع کرنا ہوگی۔

Related posts

اب متھرا کے سہارے حصولِ اقتدار کی کوشش۔۔۔سراج نقوی

qaumikhabrein

16 سالہ فلسطینی کو اسرائیلی فوج نے ہلاک کرڈالا۔

qaumikhabrein

امروہا۔کورونا ویکسی نیشن کے لئےرضاکاران حسینی کی بیداری مہم۔

qaumikhabrein

Leave a Comment