qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

عزاخانے کو دی گئی زمین واپس مانگی جا رہی  ہے۔

کیا کبھی  ایسا ہوا  ہیکہ کسی کے آبا و اجداد نے جو زمین کبھی عزا خانے کو عطیہ کی ہو انکی اولاد عزا خانے  کی اس زمین کو واپس کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ جی  ہاں ایسا ہورہا ہیکہ کچھ اولادیں ایسی نا خلف ہیں جو اپنے آبا و اجداد کے ثواب  کو غارت کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔  اور یہ اولادیں امام حسین کا عزادار ہونے کی دعوے دار ہوں اور مرثیہ خوان ہوں تو زیادہ حیرت کی بات ہے۔ معاملہ قاضی گلی میں واقع عزاخانہ مسماۃ چھجی سے متعلق ہے۔ اس وقف عزا خانے کے  مکان میں بیت الخلا کی جگہ نہیں تھی اور اسکے مکینوں کو سخت دشواری کا سامنا تھا۔ یہ دیکھ کر  عزا خانے کے اس مکان کے ہمسایہ میں رہنے والے بزرگوں نے ثواب کی غرض سے  اپنی کچھ زمین بیت الخلا کے لئے عزا خانے کو عطیہ کردی۔  عطیہ شدہ زمین کے ساتھ آب چک بھی عزا خانے کے اس مکان میں شامل ہو گئی۔ عطیہ کنندگان گھر کےمکینوں  نے  عزا خانے کے مکان کی چھت پر اپنا برساتی پرنالہ اتاردیا جو حق بجانب تھا۔ ایک طویل عرصے  سے  ہمسایہ کے مکان کا برساتی پانی عزا خانے کے مکان کی چھت  پر آ رہا ہے۔

برساتی پانی کا پائپ

عزا خانے کو زمین عطیہ کرنے والوں کی  نسل میں سے کبھی کسی نے  زمین عطیہ کرنے کا  کبھی  نہ احسان جتایا اور نہ واپس لینے  کی بات کی ۔معاملے میں اس وقت موڑ آیا جب  عطیہ کنند گان کی موجودہ نسل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنی چھت پر کمرہ تعمیر کیا ۔ کمرے کی چھت سے برساتی پانی  عزا خانے کے مکان کی چھت پر اتارنے کے لئے پائپ لگا دیااور کمرے کے مکینوں   کے روز مرہ کے پانی  کو بہانے کے لئے ایک  پائپ عزا خانے کے مکان میں اتار دیا ۔ جو اخلاقی اور قانونی اعتبار  سے سراسر غلط حرکت ہے۔۔ اس پائپ سےنہانے دھونے کپڑے دھونے  کا غلیظ اور بد بودار  پانی  بہتا رہتا ۔ مکان میں  کچن کی حالیہ تعمیر کے دوران اس پائپ کو ہٹانے کی جب بھی بات کیجاتی تھی وہ ہمسایہ آگ بگولہ ہوجاتا اور لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہوجاتا۔ ایسی ایسی مغلظات گالیاں اسکے منھ سے نکتیں جنکی توقع ایک مرثیہ خوان سے نہیں کی جاسکتی۔

ہمسایہ کے گھر کے پانی کاپائپ

جب بھی  عزا خانے کے مکان کے آنگن میں اترنے والے پائپ کو ہٹانے کی بات کی جاتی تو وہ  وہ بار بار اپنے بزرگوں کے  ذریعے عطیہ کردہ  آب چک کو واپس کئے جانے کا مطالبہ کرتا۔ مزے کی بات یہ ہیکہ عزاخانے کے مکان کو زمین عطیہ کرنے والے خاندان کے بیشتر افراد عطیہ شدہ زمین واپس لینے سے صاف انکار کرتے ہیں۔ادھر ہمسایہ گھریلو استعمال کے پانی کا پائپ ہٹانے کے لئے تیار نہیں ہے اور بار بار آپ چک واپس کرنے کی ضد کررہا ہے۔

ہمسایہ کے گھر کے غلط پانی کا پائپ

 اس تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی  عزا خانے کے خاندان واقف  کے افراد نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ کئی موقعوں پر حالات ایسے ہوگئے تھے کہ معاملہ پولیس تک پہونچ سکتا تھا لیکن یہ سوچ کر کہ قوم کا معاملہ پولیس تک  نہ پہونچے اور اہل شہر کو مذاق اڑانے کا موقع نہ ملے صبر و تحمل سے کام لیا گیا۔  معاملہ  کو حل  کرنے کے لئے قوم کے بڑوں سے بھی رجوع کیا گیا لیکن انہوں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ قوم کے معاملات سلجھانے میں آگے آگے رہنےوالے انجمن رضا کاران حسینی کے اعلی عہدے دار خورشید زیدی سے کئی مرتبہ مداخلت کرکے  تنازعہ حل کرانے کی درخواست کی گئی لیکن انہوں نے ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیا۔ کبھی موقع پر آکر صورتحال معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی۔  انہوں نے تنازعہ حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

پیمائش کا کام

ہمسایہ  کے یہاں سےآنگن میں اترنے والا پائپ لیک ہونے کی صورت میں غلیظ پانی نو تعمیر شدہ کچن میں آنے لگا  ہے۔ عزا خانے کے خاندان واقف نے   عطیہ شدہ آب چک کو  واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکے لئے  ہمسایہ کی دیوار سے الگ  دیوار تعمیر کرنی ہوگی اور مکان کے لنٹر کو کاٹنا پڑیگا۔  راج کو بلا کر چھت اور دیوار کی پیمائش کرالی گئی ہے۔ جلد ہی عطیہ شدہ آپ چک کو عطیہ کنندہ  بزرگوں کی اولاد کےحوالے کردیا جائےگا۔ اس طرح عزا خانے کو زمین عطیہ کرنے والے بزرگوں کی روح کو بھلے ہی تکلیف پہونچے لیکن انکی اولاد کو قلبی سکون ضرور حاصل ہو جائےگا۔

Related posts

عالم شیعت کو ایک اورنقصان۔ علامہ حسن زادہ آملی کا انتقال

qaumikhabrein

ہمدرد ٹرسٹ نے صحافیوں ، اساتزہ اور سماجی کارکنوں کو انعام سے نوازہ

qaumikhabrein

روس کے سات حیرت انگیز مجسمے

qaumikhabrein

Leave a Comment