
صہیونی کابینہ نے غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نتن یاہو کی سربراہی میں صہیونی حکومت نے غزہ شہر پر مکمل کنٹرول کے لیے فوجی کارروائی کی حکمت عملی تیار کر لی جس کے بعد اسرائیلی کابینہ نے تجویز کو منظور کر لیا ہے۔ غزہ پر اسرائل نے ناپاک منصوبے کو باقاعدہ طور سے تو اب منظوری دی ہے لیکن منصوبے پر عمل تو اس نے بہت پہلے ہی شروع کر دیا ہے۔حماس کے ساتھ جنگ بندی کے منصوبے کے بعد بھی اس نے غزہ تک خوراک اور دوائیں نہ پہونچنے دینے کا منصوبہ غزہ پر قبضے کے منصوبے کے پیش خیمے کے طور پر اختیار کر رکھا ہے۔ غزہ میں بھوک سے لوگ بے حال ہیں۔ دوائیں نہیں ملنے سے بیماروں کی جانیں جا رہی ہیں اور تو اور امداد اور پانی حاصل کرنے کے لئے لوگ قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں تو اسرائل ان لوگوں پر حملے کرکے انکو ختم کرتا ہے۔ اسکی یہ سب حرکتیں دنیا اپنے بے حیا آنکھوں سے دیکھ رہی ہے لیکن زبانی طور سے اسرائل کی مذمت کے علاوہ کوئی کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ غزہ پر قبضے کے منصوبے کا ایک بڑا مقصد غزہ میں مذاحمت کی ہر کوشش کو کچل دینا ہے۔ اسرائل کے اس ناپاک منصوبے کے بھیانک نتائج برامد ہونگے جو علاقائی حالات کو مزید دھماکہ خیز بنا دیں گے۔

علاقائی حالات پر اثرات
- جنگ اور تشدد میں اضافہ: غزہ شہر سے شہریوں کی نقل مکانی اور زمینی حملے کا منصوبہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں نے پہلے ہی غزہ میں انسانی صورتحال کو “ناقابل برداشت” قرار دیا ہے۔ اس طرح کی فوجی کارروائی سے مزید تباہی، بے گھری، اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان ہوگا، جو علاقائی عدم استحکام کو بڑھاوا دے گا۔
- عرب اور عالمی ردعمل: عرب ممالک، جیسے کہ مصر، قطر، اور سعودی عرب، نے اس منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ اگر یہ منصوبہ نافذ ہوتا ہے، تو اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات، خاص طور پر ابراہام معاہدوں کے تحت نارملائزیشن، شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری، بشمول یورپی ممالک اور اقوام متحدہ، بھی اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سمجھتی ہے، جو اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

- حماس اور دیگر گروہوں کی مزاحمت: حماس اور دیگر فلسطینی گروہ اس منصوبے کو “مذاکراتی عمل کے خلاف دھوکہ” قرار دے چکے ہیں۔ اس سے مسلح مزاحمت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف غزہ بلکہ مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں بھی تشدد کو بھڑکا سکتا ہے۔
- یرغمالیوں کا بحران: اسرائیلی فوج کے اندر بھی تحفظات موجود ہیں کہ اس طرح کی کارروائی یرغمالیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، جو اسرائیل کے اندرونی سیاسی دباؤ کو بڑھا سکتا ہے۔
فلسطینی آزاد ریاست کے امکانات
- طویل مدتی اثرات:
- آزاد فلسطینی ریاست کا قیام پہلے ہی پیچیدہ ہے، کیونکہ دو ریاستی حل (Two-State Solution) کے مذاکرات کئی دہائیوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ اگر غزہ پر مکمل قبضہ ہو جاتا ہے اور وہاں اسرائیلی کنٹرول قائم ہو جاتا ہے، تو اس سے فلسطینیوں کے خود مختار ریاست کے خواب کو مزید پیچیدہ کر دیا جائے گا۔
- بدتر حالات: اگر یہ منصوبہ نافذ ہوتا ہے، تو غزہ میں انسانی بحران، علاقائی تناؤ، اور عالمی تنہائی اسرائیل کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ یہ فلسطینیوں کے لیے فوری طور پر مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔
