
کیا ٖڈراتے ہو انکو مرنے سے
جنکو مرنے سے ڈر نہیں لگتا جی
ہاں یہ شعرایرانی قوم پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ایران پر امریکہ اور اسرائل کے تابڑ توڑ طریقے سے بھیانک حملے ہو رہے ہیں ۔اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہورہا ہے۔ معصوم اسکولی بچیوں سمیت ہزاروں افراد جام شہادت پی چکے ہیں۔لیکن لوگوں کا عزم و حوصلہ غیر متزلزل ہے۔انکے قدموں میں تھوڑی سی بھی لغزش نہیں ہے۔ کسی دھماکے اور کسی حملے سے انکے حوصلے پست نہیں ہورہے ہیں۔

ایران کے علاقے شیراز میں ایک عوامی ریلی ہورہی تھی کہ عین اسی موقع پر اسرائیلی اور امریکی حملے کے نتیجے میں دھماکے ہونے لگے۔ بجائے اسکے کہ دھماکوں کی آواز سن کر لوگوں میں افرا تفری پھیلتی۔ بھگدڑ مچتی۔لوگوں کے جوش و جزبے میں اضافہ ہو گیا۔ اور وہ زیادہ زو و شور کے ساتھ ‘حیدر حیدر’ کے نعرے لگانے لگے۔ کوئی ایک فرد بھی ریلی سے نہیں گیا۔ سب کے سب وہیں پہاڑ کی طرح قدم جمائے کھڑے رہے۔ جو قوم موت سے اتنی بے خوف ہو اسکو کون ڈرا دھمکا کر جھکنے کو مجبور کرسکتا ہے۔سلام ہے ایسی جیالی قوم کو

