qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

From Najaf  to Nazmia” کتاب کی تقریبِ رونمائی۔

معروف ادیب، مصور، فوڈ ٹیکنالوجسٹ اور سماجی کارکن نعیم نقوی کی اس انگریزی تصنیف کی رسم اجرا گزشتہ29 مئی کو منعقد ہوئی جو اسلامی تاریخ کے تقریباً چودہ صدیوں پر محیط ایک جرأت مندانہ، متوازن اور غیر جانبدارانہ بیانیہ  ہے۔ کتاب برصغیر پر اس کے اثرات کا احاطہ کرتی ہے۔

From Najaf  to Nazmia کی تقریب رونمائی دہلی میں انڈیا اسلامک سینٹر میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں ادب، عوامی امور، قانون، سائنس اور سماجی خدمت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے شرکت کی اور کتاب کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔نعیم نقوی ایک ہمہ جہت اور کثیر التصانیف ادیب ہیں جن کی آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور ایک ہزار سے زائد مضامین ملکی و بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکے ہیں۔

کتاب کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کتاب ان تجربات اور اثرات کی عکاس ہے جنہوں نے مصنف کے مذہبی، فکری اور سماجی شعور کی تشکیل  کی۔ ایک شیعہ خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود فطری طور پر تشکیکی اور تجسس پسند طبیعت کے حامل نقوی نے ثقافتی وابستگی اور عقلی جستجو کے درمیان ایک سوچا سمجھا بیانیہ پیش کیا ہے۔ کتاب برصغیر میں شیعہ اسلام کا تاریخی جائزہ پیش کرتی ہے اور اس کے اداروں، قیادت اور سیاسی اقتدار کے ساتھ بدلتے تعلق کو موضوع بناتی ہے۔ ڈاکٹر سیدہ حمید، سابق رکن منصوبہ بندی کمیشن ہند اور سابق رکن قومی کمیشن برائے خواتین، نے فکری دیانت اور تاریخی فہم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ایک معروف حقوقِ نسواں کی علمبردار، ادیبہ اور سماجی کارکن کے طور پر ڈاکٹر حمید خواتین، اقلیتوں اور امن کے مسائل پر اپنے کام کی وجہ سے قابل قدر مقام رکھتی ہیں۔ مسلم ویمنز فورم کی بانی رکن کے طور پر وہ دہائیوں سے پسماندہ طبقات کی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔

سلمان خورشید، نامور وکیل، سینئر سیاستدان اور سابق وزیر خارجہ، نے ایک حساس تاریخی موضوع پر مصنف کے متوازن اور غور و فکر پر مبنی انداز کی تعریف کی۔ انہوں نے اسلام کی متنوع روایات کو سمجھنے میں باخبر مکالمے اور علمی غور و خوض کی قدر و قیمت پر زور دیا۔ ڈاکٹر گوہر رضا، نامور سائنسدان، شاعر، فلمساز اور سائنس مبلغ، نے روحِ تحقیق کو برقرار رکھتے ہوئے فکری روایات کے تحفظ کی اہمیت پر گفتگو کی۔ انہوں نے مصنف کی تاریخ اور شناخت کے باریک بیانیے کی تعریف کی۔

عابدہ ناہید

ایڈووکیٹ فردوس قطب وانی، سپریم کورٹ آف انڈیا کی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ، نے کتاب کی علمی گہرائی اور معروضی بیانیے کو سراہا۔ اپنے وسیع قانونی اور علمی تجربے کی بنیاد پر انہوں نے تاریخی پیش رفت کو انصاف اور وضاحت کے ساتھ دستاویز کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

کرنل (ریٹائرڈ) سید بدر عباس زیدی، سابق صدر امامیہ چیمبر آف کامرس (انڈیا چیپٹر)، نے نعیم نقوی کے سلسلے میں کہا کہ “وہ ایسا ادیب  ہے جو الفاظ سے تصویر بناتا ہے اور وہ مصور  ہےجو رنگوں سے لکھتا ہے۔ انہوں نے مصنف کی تعلیم، سفر اور فکری انہماک سے عمر بھر کی لگن کو یاد کیا۔

ارم زہرا نقوی

کرنل زیدی نے مصنف کے کئی قریبی احباب کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جن میں مرحوم پروفیسر طارق رضوی، پروفیسر ریاضیات لیما یونیورسٹی اور سابق صدر امریکن میتھمیٹیکل سوسائٹی، مرحوم اختر جمال رضوی، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، امروہہ، مرحوم ڈاکٹر سید محمد شفاعت نقوی امروہوی، سید عمار رضوی، کمپیوٹر پروگرامر، امریکہ، مرحوم اظہر عباس، لیکچرار انگریزی، شیعہ ڈگری کالج جونپور، سید مسرور حسین رضوی، ریٹائرڈ سینئر سائنسدان، انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، اندور، محترمہ تصویر نقوی، سابق نائب پرنسپل، یونیٹی کالج لکھنؤ، اور انجینئر سید مبارک، امروہہ شامل ہیں۔

مقررین نے کتاب کے متن پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ کتاب شیعہ روایت پر خصوصی توجہ مرکوز کرتی ہے، تاہم اس میں سنی اسلام کی تاریخی ترقی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق رائے ظاہر کیا کہ مصنف نے شیعہ سنی تعلقات کے حساس موضوع کو فکری دیانت داری کے ساتھ پیش کیا ہے۔

پروگرام کی خوبصورت نظامت عابدہ ناہید نے کی جو نعیم نقوی کی دختر ہیں۔ ایک ہمہ جہت صحافی کے طور پر انہوں نے انگریزی اور اردو دونوں میں قابل ذکر متانت، جذباتی گہرائی اور لسانی رچاؤ کے ساتھ تقریب کی نظامت کی۔

پروگرام کی اردو نظامت کا شعبہ ارم زہرا نقوی نے سنبھالا جو ایک قابل عربی اسکالر اور صحافی ہیں۔ انہوں  نےاپنی زندگی کا ایک اہم حصہ شام میں گزارا ہے، جہاں ان کے والد دمشق میں حضرت بی بی زینب کے مزار کے متولی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے، ارم نے تقریب میں ایک بھرپور ثقافتی اور لسانی تناظر کا اضافہ کیا۔ ان کے مضامین اور شاعری کئی عربی اخبارات اور رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔

یہ تقریب مصنف کے قدیم دوست انجینئر عباس زیدی نے منعقد کی جن کی کوششوں سے ایک یادگار اور فکری اعتبار سے بھرپور شام کا انعقاد ممکن ہوا۔ “ From Najaf  to Nazmia کی رونمائی نہ صرف ایک اہم تاریخی تصنیف کی اشاعت کا اعلان تھی بلکہ یہ مکالمے، علم اور ثقافتی تفاہم کے لیے وقف ایک معنی خیز اجتماع بھی تھا

Related posts

بنگلہ دیش میں معروف روہنگیا لیڈر محب اللہ کا قتل۔

qaumikhabrein

مشرقی آذر بائجان میں رہبر کے نمائندے تھے آیت اللہ آل ہاشم

qaumikhabrein

امریکہ ایران کی سپاہ پاسداران سے خوف زدہ۔ معلومات دینے کے لئے رکھا 15 ملین کا انعام

qaumikhabrein

Leave a Comment