qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

ٹرمپ  کے پیٹ میں درد۔ایران ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کررہا ہے۔

جنگ کے ہر مورچے پر ایران کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ کو اب ایک اور پریشانی لاحق ہوئی ہے۔ وہ یہ ہیکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہیکہ جس ملک پر امریکہ کی قیادت میں دنیا بھر نے سخت ترین  پابندیاں لگائیں۔ اورجنگ مسلط کی وہ ملک آبی گزر گاہ سے فیس وصول کرکے اپنی  معیشت کو بہتر کرسکے۔ ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھاہے کہ “رپورٹس ہیں کہ ایران ہرمز میں جہازوں سے فیس وصول کر رہا ہے۔ وہ ایسا نہ کرے اور اگر کر رہا ہے تو ابھی بند کردے!”

 ٹرمپ سے دنیا کو سوال کرنا چاہئے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے پر کس نے مجبور کیا۔  اور یہ بھی پوچھا جانا چاہئے کہ دنیا  میں جتنی بھی آبی گزر گاہیں ہیں کیا وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول نہیں کی جاتی ہے۔ اگر ان گزرگاہوں سے گزرنے والے جہازوں سے متعلقہ ممالک موٹی رقمیں وصول کرتے ہیں اگر ایران ایسا کر رہا ہے تو ٹرمپ کے پیٹ میں مروڑ کیوں ہو رہی ہے۔

دنیا کی آبی گزرگاہیں اور فیس کا نظام

نہرِ پانامہ سے گزرنے والا ایک بڑا کنٹینر جہاز آٹھ لاکھ ڈالر سے بارہ لاکھ ڈالر تک پنامہ کوادا کرتا ہے۔ انتہائی مصروف موسم میں نیلامی کے ذریعے یہ فیس چالیس لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ نہرِ سویز سے گزرنے والا ٹینکر تقریباً ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ ڈالر ادا کرتا ہے، اور مصر نے 2025 میں بڑے کنٹینر جہازوں کو پندرہ فیصد رعایت دینے کے باوجود یہ فیسیں برقرار رکھی ہیں۔ ترکیہ نے آبنائے باسفورس سے گزرنے والے جہازوں پر جولائی 2025 سے فی نیٹ ٹن فیس پانچ اعشاریہ تراسی ڈالر مقرر کی ہے، جو 2022 سے پہلے صرف اعشاریہ اسی ڈالر تھی — یعنی تین سال میں سات گنا اضافہ۔ جرمنی کی کیل کینال بھی اپنے حجم کے مطابق جہازوں سے فیس وصول کرتی ہے۔

یعنی پوری دنیا میں یہ اصول مانا ہوا ہے کہ آبی گزرگاہ پر کنٹرول رکھنے والا ملک وہاں سے گزرنے الے جہازوں سے فیس لیتا ہے۔

ترکی باسفورس نہر
جرمنی کیل نہر
پنامہ نہر

آبنائے ہرمزپہلے مفت تھی

آبنائے ہرمز ایک قدرتی سمندری راستہ ہے جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ اس تنگ راستے کا ایک کنارہ ایران کا ہے اور دوسرا عمان کا۔ جنگ سے پہلے روزانہ ایک سو سے ایک سو بیس تجارتی بحری جہاز یہاں سے گزرتے تھے، جن میں دنیا کی بیس فیصد تیل اور گیس کی سپلائی شامل تھی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران پہلے اس گزرگاہ سے کوئی فیس نہیں لیتا تھا۔ یہ دنیا کے ہر ملک کے لیے آزاد اور کھلی ہوئی تھی۔

آبنائے ہرمز

جنگ کیسے شروع ہوئی اور ہرمز کیوں بند ہوا

28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے شروع کیے۔ فوجی اور حکومتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس براہ راست فوجی جارحیت کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا۔ یہ کوئی اچانک یا غیر متوقع فیصلہ نہیں تھا — جب کوئی ملک اپنی سرزمین اور خودمختاری پر حملے کی زد میں ہو تو وہ اپنے ہر ہتھیار کو استعمال کرتا ہے۔ ایران نے یہی کیا۔ اس بندش کا اثر فوری اور سنگین تھا۔ خام تیل کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل سے اچھل کر 118 ڈالر تک پہنچ گئی۔ دنیا بھر میں توانائی، خوراک اور مال کی ترسیل متاثر ہوئی۔ بیس ہزار کے قریب ملاح خلیج فارس میں پھنسے رہے۔

جنگ بندی اور ہرمز ٹول کا تنازعہ

8 اپریل 2026 کو ٹرمپ نے ایران کی تمام شرائط تسلیم کرتے ہوئے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا، ۔ ایران نے جنگ بندی کو قبول تو کیا لیکن یہ اعلان بھی کردیا کہ ہرمز سے گزرنے والے ہرجہاز سے فیس وصول کی جائےگی۔ رپورٹوں کے مطابق ایران نے فی بیرل تیل ایک ڈالر کا ٹول مقرر کیا ہے جو کرپٹو کرنسی میں ادا ہوگا، یا ہر بڑے جہاز سے بیس لاکھ ڈالر تک وصول کیے جائیں گے۔ ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر نے صاف اعلان کیا کہ ہرمز اب پہلے والی حالت میں واپس نہیں جائے گا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کے بعد ہرمز کے انتظام کے لیے نیا پروٹوکول بنایا جائے گا۔

بنیادی سوال: ایران کو کس نے مجبور کیا؟

یہ سوال بالکل درست اور منطقی ہے۔ ایران نے ہرمز پہلے کبھی بند نہیں کیا تھا۔ کسی بھی ملک کے جہاز بلا روک ٹوک گزرتے تھے اور کوئی فیس نہیں تھی۔ ایران نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب اس کی سرزمین پر بمباری ہوئی، اس کے فوجی ٹھکانے تباہ ہوئے اور اس کے شہریوں پر حملے ہوئے۔ اگر گھر جل رہا ہو تو انسان اپنا دروازہ بند نہیں کرے گا تو کیا کرے گا؟ ہرمز کی بندش ایران کی جارحیت نہیں بلکہ اس پر ہونے والی جارحیت کا ردِ عمل تھا۔

ٹول فیس پر اعتراض کیوں؟ دوہرا معیار

اب سوال یہ ہے کہ اگر مصر اربوں ڈالر سویز سے کماتا ہے، پانامہ اپنی معیشت کا بڑا حصہ کینال سے چلاتا ہے، ترکیہ باسفورس فیس سات گنا بڑھا چکا ہے — تو ایران کو ہرمز پر معاوضہ لینے کا حق کیوں نہیں؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ جو لوگ ایران پر اعتراض کر رہے ہیں انہوں نے کبھی مصر، پانامہ یا ترکیہ پر اعتراض نہیں کیا۔ایران کا موقف سیدھا ہے: جنگ میں ہمارا نقصان ہوا، ہم تعمیر نو کے لیے معاوضہ چاہتے ہیں، اور ہرمز ہماری سرحد سے لگتا ہے۔ یورپی یونین نے کہا ہےکہ بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنا آزاد ہونا چاہیے اور یہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہے — مگر اسی یورپی یونین نے  امریکہ اور اسرائل کےایران پر حملوں کی کبھی مذمت نہیں کی ۔۔

آخری بات

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جب طاقتور ممالک چھوٹے ممالک پر حملہ کرتے ہیں تو وہ چھوٹے ملک بھی اپنے پاس جو کچھ ہوتا ہے اسے استعمال کرتے ہیں۔ ایران کے پاس ہرمز ہے۔ اس نے اسے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ اس پر اعتراض کرنے والے ڈونلڈ ٹرپ کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ جب ہرمز آزاد تھا اور فیس بھی نہیں تھی، تو انہوں نے ہرمز کو بند کرنے اور جہازوں سے فیس وصول کرنے پر ایران کو کیوں مجبور کیا گیا۔۔ جو حماقت ٹرمپ نے کی ہےاسکا خمیازہ تو بھگتنا پڑیگا۔۔

Related posts

ایران میں سابق وزیر دفاع کو جاسوسی کے جرم یں پھانسی دیدی گئی

qaumikhabrein

دی اٹیک آن پلوامہ کے مصنفین کشمیر کے دورے پر

qaumikhabrein

نوحوں کے مجموعے ‘بیاض شمیم’ کی رسم اجرا

qaumikhabrein

Leave a Comment