
ہندستانی مسلم معاشرے میں شادی بیاہ سے متعلق پائی جانے والی برائیوں کے خاتمے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مہم چلا رہا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی سماجی سدھار کمیٹی ستائیس مارچ سے دس روزہ کل ہند مہم چلا رہی ہے۔ یہ مہم چھ اپریل تک جاری رہےگی۔۔ مسلم معاشرے کو شادی بیاہ کی بیجا رسومات سے بچانے کے لئے مسلمانوں کے لئے گیارہ نکاتی گائیڈ لائنس جاری کی گئی ہیں۔

یہ گائیڈ لائنس پرسنل لا بورڈ کے چیئرمین مولانا رابع حسن ندوی نے جاری کی ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کی اس سرگرمی کو حال ہی احمد آباد سے تعلق رکھنے والی عائشہ کی خود کشی کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔خود کشی سے پہلے عائشہ نے ایک ویڈیو رلیز کیا تھا جس میں اس نے اپنی خود کشی کی وجہ جہیز کی لعنت کو قراردیا تھا۔ مسلمانوں کے لئے مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے جو گائیڈ لائنس جاری کی گئی ہیں ان میں جہیز کا مطالبہ کرنے، شادی کی تقریب کو سادگی سے ادا نا کرنے، بارات کا جلوس نکالنے، آتش بازی کرنے، بارات میں ناچ گانے اور پر تکلف دعوتوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے ان سے بچنے کو کہا گیا ہے۔شادی کی رسومات کی تکمیل کے بعد دولہا والوں کی جانب سے دعوت ولیمہ کی اجازت دی گئی ہے۔
